اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر شروع ہوتے ہی ہندوستانی نمائندہ نے کیا واک آوٹ


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو آج ہندوستانی وفد کے ذریعہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کا آغاز ہندوستان کے خلاف بولنے سے ہی کیا، جس کے بعد ہندوستانی وفد جنرل اسمبلی کے ہال سے واک آوٹ کرگیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو آج ہندوستانی نمائندہ کے ذریعہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کا آغاز ہندوستان کے خلاف بولنے سے ہی کیا، جس کے بعد ہندوستانی وفد جنرل اسمبلی کے ہال سے واک آوٹ کرگیا۔پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے خلاف بیان اور کشمیر موضوع اٹھانے پر ہندوستانی وفد نے عمران خان کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ کورونا کے دور میں اس بار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا انعقاد ورچوئل ہو رہا ہے۔ اپنی تقریر کی شروعات کرتے ہی عمران خان نے جم کر زبان درازی کی ۔ انہوں نے کہا، ’آر ایس ایس گاندھی اور نہرو کے سیکولر اقدار کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کو ’ہندو راشٹربنانا چاہتے ہیں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ نے عمران خان کے بیان پر کہا کہ 75ویں اقوام متحدل جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا بیان سفارتی طور پر کمتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ک بیان میں جھوٹے الزام لگانا، ذاتی حملے کرنا، اپنے یہاں کے اقلیتوں کا حال نہ دیکھ کر ہندوستان پر تبصرہ کرنا شامل تھا۔ رائٹ ٹو رپلائی میں جواب دیا جائے گا۔


ليست هناك تعليقات: