موبائل کے ذریعہ طلبا کو آن لائن تعلیم سے جوڑنے کی کوشش تو کی گئی، لیکن اس کا دائرہ کافی محدود رہا، اسکول کے اساتذہ نے بھی اپنے طور پر بچوں کو تعلیم دینے کی کوشش کی، لیکن گاؤں دیہات کے لوگوں کی اپنی مجبوری اور محدود وسائل اس مقصد کو کامیاب بنانے میں سب سے بڑی مشکل ثابت ہو رہے ہیں۔

میرٹھ: کورونا وبا کے دوران متاثر اسکول کالج کا تعلیمی نظام آن لائن تعلیم سسٹم کے ذریعہ بھی پٹری پر لوٹتا نظر نہیں آ رہا ہے، خاص طور پر سرکاری پرائمری اسکولوں کا تعلیمی نظام تو درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ ان میں بھی سب سے زیادہ اثر گاؤں دیہات کے طالب علموں پر نظر آ رہا ہے۔ ضلع کے دیہی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کا تو یہی حال ہے۔ مارچ سے اسکولوں کے بند ہونے کے بعد سے نہ تو سالانہ امتحانات منعقد کئے جا سکے اور نہ ہی نئے تعلیمی سیشن کی شروعات ہو سکی، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر کچھ وقت بعد سرکاری اسکولوں میں بھی آن لائن کلاسز کی شروعات تو کر دی گئی، لیکن اس کا فائدہ طالب علموں تک نہیں پہنچا۔ گاؤں دیہات میں بنیادی سہولیات کی کمی اس سسٹم کی راہ کا سب سے بڑا روڑا بن گئی۔

ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق