ٹھیکے دار کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے سخت جرمانہ۔عائد کیا جائے
ورنہ کمشنر آفس پر دھرنا آندولن
4 اگست بروز بدھ
نیا آزاد نگر ادیب روڑجونا پولیس اسٹیشن سے شروع ہونے والے RCC نالے کی گھٹیا تعمیر کے سوال پر نیا آزاد نگر کے شیخ سکندر شیخ شبیر پہلوان کی اپوزیشن لیڈر شان ہند صاحبہ کے ہمراہ کمشنر سے ملاقات
نیا آزاد نگر وارڈ نمبر 16 جونا آزاد نگر پولیس اسٹیشن کے پاس شروع ہونے والے RCC نالے کی گھٹیا اور ناکاره تعمیر کے خلاف نیا آزاد نگر کے نوجوان شیخ سکندر پہلوان نے کارپوریشن کمشنر کو لیٹر دیتے ہوئے گھٹیا تعمیر پر اعتراز کرتے ہوئے بتلایا کے ٹھیکے دار کی جانب سے RCC نالے کی تعمیر گھٹیا اور ناکاره کوالیٹی میں کی جارہی ہے اور ٹھیکے دار نے ادیب روڑ کے اچھے راستوں کے علاوہ پینے کے پانی کی پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچایا ہے, اور ٹھیکے دار RCC نالے کی تعمیر گٹر کے بہتے ہوئے پانی میں کررہا ہے اس کی وجہ سے آزاد نگر اور اطراف کے علاقوں کی عوام میں نالے کی تعمیر کے خلاف بے چینی پائی گئی تب آزاد نگر علاقے کے نوجوان سکندر پہلوان* نے علاقے کی عوام کی راہنمائی کرتے ہوئے ٹھیکے دار اچھی کوالیٹی کا کام کروانے کی کارپوریشن سٹی انجنیئر اور دیگر ادھیکاریوں سے بات کی تھی ۔۔۔۔
اسی طریقے سے 12 جولائی کو ٹھیکے دار کے خلاف سٹی انجنیئر کی جانب سے نوٹس نکالی گئی ۔۔ کے کام اتی شرتی کے مطابق کیا جائے عین بقرعید کے ایام میں ٹھیکے دار نے راستوں کا نقصان کرتے ہوئے کام ادھورا چھوڑ کر فرار ہوگیا ۔۔۔
*سکندر پہلوان کی جانب سے* حق معلومات قانون
*(ماہتی ادھیکار )* کا سہارا لیتے ہوئے معلومات لی گئی تو یہ انکشاف ہوا کہ ………
9 مارچ 2020 کو ٹھیکے دار کو ورک آرڈر دیا گیا اور کارپوریشن کی جانب سے جو ایگریمنٹ اشٹامپ پیپر پر تیار کیا گیا اس میں کام کی کوالیٹی اور شرایت طئے کی گئی جس کہ مطابق 4 مہینے کی مدت میں RCC نالے کا کام مکمل ہونا تھا مطلب 9 جون 2020 تک RCC نالے کا کام اتی شرتی کے مطابق مکمل ہونا تھا ورنہ 4 مہینے کے بعد ٹھیکے دار کے خلاف پر دن کا ایک ہزار ہزار 1000 روپیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ٹھیکے دار نے ایگریمنٹ پر دستخط کرتے ہوئے اتی شرتی کے مطابق R CC نالے کا ٹھیکہ لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن مالیگاؤں میں تعمیری کام کے نام پر جس طریقے کی بدعنوانیاں کی جاتی ہے کے کام کے بغیر بھی بل نکال لیا جاتا ہے ۔۔۔ اور نالے کی تعمیر کرنے والے ٹھیکے دار نے نالے کے تعمیری کام میں قریب 14 مہینوں کی دیری کی ہے اور ابھی کام ادھورا چھوڑ کر فرار ہوگیا ہے ۔۔
سکندر پہلوان کی جانب سے کارپوریشن کمشنر سے مانگ کی گئی ہے کہ کارپوریشن انجنیئر سے نالے کا پنچنامہ کرواتے ہوئے اس کی رپوٹ پیش کی جائے ۔۔۔۔۔۔
اور اتی شرتی کیمطابق تعمیری کام نا ہونے کی صورت میں پر دن ایک ہزار 1000 روپیئے کے حساب سے ٹھیکے دار سے جرمانہ وصولی کرتے ہوئے ٹھیکے دار کو بلیک لسٹ کیا جائے ۔۔۔
*اپوزیشن لیڈر شان ہند صاحبہ کی قیادت میں* سکندر پہلوان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ کمشنر کو مطالباتی لیٹر پیش کیا
اور ٹھیکے دار کے خلاف کاروائی نا ہونے کی صورت میں کمشنر *آفیس کے دالان میں دھرنا آندولن کیا جائے گا
شیخ انیس مستری
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق