برائیوں کے خاتمے کے لیے ائمہ اور مقررین جمعہ کو عناوین کے لیے خود مختار کیا جاے
حافظ محمد غفــــــران اشرفی
شہر کا ہر ذمہ دار زندہ دل،باشعور انسان یہ چاہتا کہ شہر میں جو برائیاں پھیلی ہوئی ہیں یا پھیل رہی ہیں اُن کا خاتمہ ہو۔لیکن برائیاں ہیں کہ ختم ہونے کی بجاے کھٹملوں اور دیمکوں کی طرح بڑھتی ہی جارہی ہیں۔اِس کا تدارک کیسے ہوگا؟برائیاں معاشرے سے ختم کیسے ہوں گی؟اِن سوالات کا ایک ہی جواب ہے۔اِس سے پہلے بھی جو جرائم ختم ہوے ابھی یا بعد میں ختم ہوں گے۔وہ ائمہ اور خطبا کی کوششوں سے ہی ہوے ہیں اور آئندہ بھی اُن ہی کی کوششوں سے ختم ہوں گے۔ماضی میں مساجد کے محراب سے برائیوں کی نحوست پر ائمہ نے بیانات کیے لوگوں نے گناہ ترک کیے۔لیکن اِس دور میں حالات یہ ہیں کہ انتخابِ عناوینِ خطبئہِ جمعہ سے متعلق ائمہ کو بہت سوچنا پڑتا ہے۔کیوں کہ برائیوں کے خلاف بولیں تو جمعہ کے لیے اکثر آنے والے کسی نا کسی برائی میں ملوّث نظر آئیں گے۔اِسی لیے اکثر ائمہ یا تو اولیاے کرام کی زندگی سے کرامات کا باب پڑھ کر یا پھر کسی موقع پر فضائل والی روایات پڑھ کر جمعہ کا بیان ختم کردیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بے باکی سے گناہ کررہے ہیں۔کیوں کہ جب بھی برائیوں کا خاتمہ کرنا ہوا تو لوگوں کو خوف خدا،برائی کی مذمت اور اُس کے نقصانات سیٹھ صاحب اور غریب صاحب کی رعایت کیے بغیر بیان کیے گئے۔لیکن اب ائمہ چندہ بند ہونے کے خوف سے مرعوب ہیں یا پھر مصلّی چِھن جانے کے ڈر سے مجبور!!!اگر برائیوں کے خلاف بولتے ہیں تو کوئی نا کوئی ناراض ضرور ہوتا ہے۔مسجد کے ذمہ دار کو شکایت کرتا ہے تو امام صاحب پر دباو بنایا جاتا ہے۔اِس لیے مساجد کے ذمہ داران سے یہ عرض ہے کہ اپنے ائمہ کو ہر برائی کے خلاف کُھل کر بولنے کی آزادی دیں۔اگر اُن کے بیان کے بعد کوئی سرپِھرا انسان اعتراض کرتا ہے تو ذمہ داران اور مصلیانِ مساجد اپنے امام کے سینہ سِپر ہوکر اُن کی طرف سے بات کریں۔ناکہ معترض کے ساتھ کھڑے ہوکر امام کی برائی کریں۔اگر مساجد کے ائمہ کو ذمہ داران اور مصلّیان کی حمایت مل گئی تو گناہ کرنے والوں کی کمر ٹوٹے گی اور اُن کے دلوں میں کچھ خوف پیدا ہوگا۔ورنہ جو حالات ہمارے معاشرے اور سماج کے آج ہیں علما اور ائمہ کے کُھل کر حق بیان نا کرنے دینے کی وجہ سے اِس سے بدتر حالات ہوں گے۔آپ چاہتے ہو کہ ہمارا معاشرہ صالح ہوجاے اور ہمارے بچے نیک بنیں تو ائمہ،مقررینِ جمعہ اور علما کے بیانات پر تنقید کرنے کی بجاے اُن کے بیان کی تشہیر کریں۔تاکہ ہمارے شہر سے برائیوں کا خاتمہ ہو۔ائمہ سے ادبا عرض ہے کہ اپنے گرد و پیش میں نظر رکھیں جس برائی کو دیکھیں بغیر کسی کی رعایت کیے غیر جانب دارانہ طور پر بغیر کسی کا نام لیے اُس برائی کے خلاف جمعہ میں بیان کریں۔نا کسی سیٹھ کی پرواہ اور نا ہی کسی ذمہ دار کا خوف،جو بھی شریعت کے دائرے سے باہر ہو اُس پر بولنا آپ کی ذمہ داری ہے۔مدارس یا مساجد کے چندہ بند ہونے کا خوف دل سے نکال دیجئے اِن کو چلانے والی ذات اللہ کی ہے۔آپ کے بولنے کے بعد ایک جگہ سے چندہ بند ہوگا اللہ قادر و قیّوم دوسرے دس لوگوں کو آپ کی جھولی میں چندہ ڈالنے والا بنا کر کھڑا کردے گا۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق