ساتھی نہال احمد مولوی محمد عثمان.سابق ایم ایل اے سابق منسٹر سابق اسپیکر سابق اپوزیشن لیڈر مہاراشٹر اسمبلی..
از.قلم انصاری ابوشعیب نہالی.
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ.
افسوس تم کو مِیر سے صحبت نہیں رہی.
*ساتھی نہال احمد صاحب ایک نام ہی نہیں اپنے آپ میں ایک انجمن تھے بَلا کی خود اعتمادی جوش اور غضب کا تجربہ اور دور اندیش انکی کٸی باتیں ہماری لیے مشلِ راہ ہے جب جب ملک فرقہ پرستی کی طرف جانے لگتا ہے انکی کمی شدت سے کھلتی ہے کہ کاش وہ بقید حیات ہوتے تو شہر میں کیا سماں ہوتا چند مٹھی بھر فرقہ پرست جو این پی آر اور این آر سی کا خوف لادے ہوۓ ہیں مرکز کی فرقہ پرست سرکار کے بولنے پر ان فرقہ پرستوں کا کیا حال کرتے ساتھی نہال احمد صاحب جب شیوشاہی سرکار تھی مہاراشٹر میں اس وقت اسمبلی میں ساتھی نہال احمد صاحب نے اسمبلی اجلاس میں رات دیر گٸے تک گیَوکشی قانون پر مدلل بحث کی تھی جو اسمبلی کی تاریخ کا عظیم باب ہے اپوزیشن لیڈر کی ایسی چھاپ چھوڑی کہ سابق چیف منسٹر نے اسمبلی میں کہا کے میں اپوزیشن ساتھی نہال احمد صاحب جیسی کرونگا ساتھی نہال احمد صرف ایک لیڈر ہی نہیں بلکہ ایک باکمال دردمند دل رکھنے والی شخصیت تھےجن کا انداز خود انکی زندگی کا سراپہ بن گیا. انھوں زندگی کو جس طرح گزرا اور برتا ہے انکی ترجمانی انکی علمیت کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی اس اہل ممتناع کے ساتھ ساتھ.انکے انداز میں ہوتی تھی قوم کی فکر بھی اور سیاست بھی ان ہی دونوں چیزوں سے انہوں نے اپنے سیاسی نگار خانے کو سجایا تھا.
آراٸشِ خَمِ کاکل اندیشہ ہاۓ دور دراز.
*فیضانِ نظر اور مکتب کی کرامت.ان دونوں چیزوں کا حسین امتزاج تھے ساتھی نہال احمد صاحب.*
*٢٩ فروری ٢٠١٦ بروز پیر اس دن سے ٹھیک ایک رات پہلے مجھ ادنی سے ورکر کو ہمارے ہردل عزیز بھاٸی جیسے لیڈر نے خبر دی کہ ساتھی نہال احمد صاحب کی طعبیت ناساز ہونے کی وجہ سے اوکارٹ ہاسپٹل ناسک میں ایڈمیٹ کیا گیا ہے دوسرے دن ہم چار ورکر محمد سلیم گڑبڑ صاحب کی سرپرستی میں ہاسپٹل پہنچے تو وہاں ایک روح فرسا منظر تھا ساتھی بلند اقبال صاحب تمام بھاٸیوں کے ساتھ ساتھ ہم سب کو صبر کی تلقین کررہے تھے ساجدہ میڈم کا تو بہت ہی برا حال تھا رو روکر ایک قیامت سی ٹوٹ پڑی تھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا عظیم چیز کھو گٸی ہے مگر مرضی مولا کے آگے سب بے بس تھے اور ساتھی نہال احمد صاحب اپنے ہزاروں ساتھیوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اللہ کی جوارِ رحمت میں پہنچ چکے تھے ...اناللہ وانا اللہ راجعون.
ساتھی نہال احمد صاحب سے ہم نے جو کچھ بھی سیکھا سب سے پہلے تو وقت کی پابندی اور زور زبردستی تو میں نے کبھی نہیں دیکھی ہمیشہ ایک بہترین سیاسی استاد پایا اور ایک دوست بھی جب کبھی ورکروں کے ساتھ بیٹھتے تو ہنسی مذاق بھی کرلیا کرتے ضرورت مند کی ایسے مدد کرتے کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی اور مزدور ورکروں سے ملنے تو مزدور کے کارخانے میں چلے جاتے بلاجھجک آج مرحوم لکھتے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے..مگر یہ دنیا فانی ہے اور باقی رہنے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہے...ہم آخیر میں دعا گو ہیں اللہ تبارک تعالی ساتھی نہال احمد صاحب کی بال بال مغفرت فرماۓ.آمین..*
ہم تمام ساتھی ورکر انکی برسی کی موقع پر عہد کرتے ہیں انکے نظریے کو پروان چڑھاۓ گے اور انکے اصولوں پر عمل پیرا رہینگے انشإ اللہ.
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق