شہر میں کُتّا گولی کا کالا دھندہ کرنے والے کون؟نوجوان تباہی کے دہانے پر،قصور وار کون



شہر میں کُتّا گولی کا کالا دھندہ کرنے والے کون؟نوجوان تباہی کے دہانے پر،قصور وار کون؟
حافظ محمد غفــــــران اشرفی
7020961779 /Malegaon

چاہے نشہ ہو یا جُوا،اسلام نے ایسے اعمال جن سے معاشرے میں بد عنوانی،قتل و غارت گری،فتنہ و فساد برپا ہوتا ہو ایسے تمام اعمال غلیظہ کو حرام قرار دے کر انسانوں پر احسانِ عظیم کیا ہے۔جس پر قرآن مقدّسہ کی آیات اور احادیث نبویہ میں فرامینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم شاہد ہیں۔کیوں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ پراگندہ ہوتا ہے۔اور اِن برائیوں میں ملوّث ہونے والے لوگ جانوروں سے بدتر صفات کے حامل بن جاتے ہیں۔اسلام نے تباہ کرنے والے اعمال اور اشیا کا تذکرہ کرکے اُن اشیا کے قریب نا جانے کا حکم دے دیا۔اب کوئی اُن غلیظ چیزوں کو اپنے پیٹ میں ڈال کر دنیا و آخرت تباہ کررہا ہے تو اُس سے بڑا بے وقوف کون ہوگا۔اِس مضمون میں بالخصوص نشہ سے متعلق کچھ باتیں تحریر کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔اِس امید پر کہ قارئین اِس جرم کے مرتکبین کو اِس گناہِ کبیرہ سے باہر لانے کی کوشش کریں گے۔
ہمارے شہر میں آج کل نشہ آور چیزیں بے باکانہ انداز میں فروخت ہورہی ہیں۔جیسے الپھا زولم(کُتا گولی)،کوریکس،فینسیڈیل اِن کے علاوہ فیوی اسٹیک،بلیک آیوڈیکس وغیرہ جن سے ہمارے نوجوان نشہ کرکے اپنی زندگی کو قسط وار بربادی کی دہلیز پر پہنچا رہے ہیں۔اور نشہ میں ڈوب کر معاشرے میں اپنی بے حیائی کا ننگا ناچ کھیل رہےہیں۔بالخصوص کُتّا گولی کا نشہ،جس کے متعلق شاید یہ ہے کہ اِس گولی کو فروخت کرنا قانونا جرم ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ شہر میں کتّا گولی لاتا کون ہے؟اور یہ گولی شہر میں فروخت کہاں سے اور کیسے ہوتی ہے؟یہاں تو شہر میں چاٹو کار مخبروں کی ٹولیاں کُتّوں کی طرح کان کھڑے کرکے،آنکھوں کو بڑی کیے اور ناکوں کو پُھلاے ہوے ہمہ وقت گشت کرتی رہتی ہیں۔جیسے ہی شہر میں کسی کی *"ریح"* خارج ہوتی ہے تو یہ چاٹو کار فورا اپنے مالک کو خبر کردیتے ہیں کہ کس نے *"ریح"* خارج کی ہے۔جب اتنی چھوٹی سی بات مالک تک پہنچ جاتی ہے۔تو پھر شہر میں اتنی کثرت سے کُتّا گولی کی فروختگی پر دُم ہلانے والے کُتّوں کے سونگھنے کی قوّت کہاں فنا ہوگئی کہ وہ سونگھ نہیں پارہے ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا جارہا ہے؟یا پھر ایسا تو نہیں کہ مالک اور کُتّے کو ٹیبل کے نیچے سے ملنے کے بعد سبھی اِس بدعنوانی میں برابر کے شریک ہوں؟ورنہ جس قدر شہر میں کُتّا گولی فروخت ہورہی ہے تو اُن کالا دھندہ کرنے والوں کو تو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے تھا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔لوگ کُتّا گولی بے باکی سے فروخت کررہے ہیں نشہ کرنے والے نڈر ہو کر نشہ کرکے شہر کا ماحول خراب کررہے ہیں۔کہیں لوٹ مار تو کہیں خون خرابہ،اِس کا ذمہ دار کون؟نشہ کرنے والے؟کُتّا گولی کا کالا دھندہ کرنے والے؟یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کرتے ہوے اِن دونوں کو چھوٹ دینے والے..........؟؟؟

ليست هناك تعليقات: