روڈ پر شہیدوں کی یادگار کے سامنے نئی عمارت کی تعمیر جو کہ ایک تحریک ہے. اس سماجی بیداری تحریک کا ہر خاص و عام کو ساتھ دینا چائیے..جس وقت سے شہیدوں کی یادگار کو مسمار کرکے نئی تعمیر کی گئی تھی اس وقت سے آج تک ایسا لگتا تھا کہ صرف سیاسی روٹی سیکھی جارہی ہے.. لیکن اس جگہ پر اس کے سامنے نئی عمارت کی تعمیر کا پرمیشن لینا اور اسے پاس کرواکے عمارت تعمیر کردینا یہ نہایت کامیاب نمائندگی کی طرف اشارہ ہے.. جو شہیدوں کی یادگار پر شہیدوں کا نام لکھنے کیلئے انتظامیہ ہمیشہ ڈرانے والا کام کیا ہے کہ نام لکھنے سے ماحول بگڑنے کا خدشہ ہے اس عمارت کے سامنے نئی عمارت تعمیر کرلینا اور اس پر دستور کی تمہید (عہد نامہ) کا کتبہ مراٹھی، اردو اور انگلش ان تین زبانوں میں کروالینا یہ بہت بڑا قدم ہے.. اس کی تائید و حمایت تمام سماجی تنظیموں کو اپنی سیاسی رنجش کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کیلئے ان شہیدوں کیلئے محترمہ شان ہند صاحبہ اور مستقیم بھائی کا ساتھ دینا چائیے اور کسی کے اندر ساتھ دینے کی ہمت نہ ہوتو براہ کرم اس کام میں ٹانگ کھینچنے کا کام بھی نہ کریں چپ چاپ خاموشی اختیار کرلیں.. اور انسانیت کیلئے ایک اچھا کام ہورہا ہے اسے ہونے دیں..
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق