شہر کے 7 شہیدوں کے گھر والوں سے ملنے پہنچے رضوان بیٹری والے

شہر کے 7 شہیدوں کے گھر والوں سے ملنے پہنچے رضوان بیٹری والے
مالیگاؤں (20جنوری) بارود کے ڈھیر پر رہنے والی شہیدوں کی یادگار پر نام کنندہ کروانے کے لیے رضوان بیٹری والا تمام تر کوششیں کر رہے ہیں پچھلے بیس برسوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی شہیدوں کی یادگار کو محصور کیا گیا پس شہیدوں کی یادگار پر شہیدوں کا نام کنندہ کرنے کے لیے رضوان بیٹری والا منصوبہ عمل کر رہے ہیں موصولہ اطلاعات کے مطابق *رضوان بیٹری والا خیر طلبی کے لیے شہید اسرائیل اللہ رکھا* کے جائے مقام پر پہنچے اور ان کے پوتے سے ملاقات کی شہید کے پوتے کا نام *شبیر احمد محمد شعبان* ہے شبیر احمد صاحب رضوان بیٹری والا سے کہا کے رضوان صاحب *آپ میرے دادا اور تمام شہداء کے لیے کئی برسوں سے لڑ رہے* ہو میں آپ کے شکریہ کے ساتھ کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں مزید گفتگو کے بعد شبیر چاچا نے ان کے گھر کی داستان سنائی اور کہا کے ہمارے *دادا کو حکومت کی جانب سے انعامی زمین دی* گئی تھی جسے *کچھ فرقہ پرست عناصر اور میر صادق میر جعفر کی اولاد نے ہمیں زمین تک جانے نہیں دیتے اس لیے ہمیں آپ وہ زمین قانون کی مدد سے دلوادیں اتنا کہتے ہوئے شبیر چاچا رو* پڑے😭 میرے دادا نے ملک کے لیے *اپنی جان دے دی انگریزوں کے ظلم سہہ* لیکن شہر کی کارپوریشن ہمیں سلو پوائزن دے کر ختم کر رہی ہے ہمیں کسی بھی لیڈر پر یقین نہیں مگر آپ برسوں سے ہمارے لیے لڑ رہے ہو اس لیے آپ سے مدد مانگ رہے ہیں تب رضوان بیٹری والا کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے رضوان بھائی نے کہا کے مودی سرکار الپ سنکھیا کے لوگوں کے لیے سہولیات فراہم کر رہی ہے مگر ہمارے الپ سنکھیا کے شہیدوں کے لیے کیا لائحہ عمل تیار کی ہے یا تو مودی سرکار تک شہیدوں کی قربانیاں نہیں بیان کی گئی یا مودی سرکار جان بوجھ کر شہیدوں کو کسی طرح کا حرجانہ دینا نہیں چاہتی آج بھلے ہی *مسلم لیڈر شپ شہیدوں کو انصاف دلانے میں پوری طرح سے قاصر ہے مگر میں رضوان بیٹری والا آپ لوگوں کے لیے لڑوں گا* اور *آپ لوگوں کی زمینوں کو قانونی لڑائی لڑ کر واپس دلاؤں* گا تاکہ آپ کی آگے کی نسلوں کے لیے آسانی پیدا ہوجائے اور آپ کی نسلیں پروان چڑھیں *اب چاہے مجھے پھانسی پر ہی کیوں نا چڑھا دیا جائے ہر حال میں شہیدوں کی یادگار پر آپ کے دادا اور بقیہ شہیدوں کا نام کندہ* ہوگا اگر ایسا نہیں ہوا تو بدعنوانی مکت سنگھٹنا کی جانب سے متوسط طبقے کے ساتھ مل کر خود ہی شہیدوں کی یادگار پر شہیدوں کا نام کندہ کریں گے۔

ليست هناك تعليقات: