سال 2020ء ہمیں بہت کچھ سِکھا گیا
*✍🏻 از قلم :- حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری محمد شاکر علی نوری صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ (امیر سنی دعوت اسلامی)*
*_______________________________________*
2020ء پوری دنیا کے لئے غم و اندوہ اور امتحان و آزمائش کا سال رہاـ اس سال نے عوامی زندگی کو درہم برہم کردیا معاشی طور پر ہر کسی کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن سب سے زیادہ اثر غریبوں پر پڑا متوسط طبقہ پریشان نظر آیا لیکن یہ طبقہ پریشانی کے باوجود فلاحی سماجی کاموں میں آگے آگے نظرآیا علاوہ ازیں بہت سے احباب بشمول علمائے کرام، مشائخ عظام ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور بہت سے احباب مختلف پریشانیوں میں گرفتار ہوکر تنگ زندگانی اور ڈپریشن کا شکار ہوگئے بلاشہبہ یہ سال ہمیں بہت کچھ سِکھا گیا جن لوگوں نے سال گزشتہ کے لیل و نہار سے سبق حاصل کیا یقیناً وہ عقل مند ہیں ہم یہاں کچھ تلخیوں کا ذکر کریں گے اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کا ذکر کریں گے تاکہ ان کی روشنی میں آئندہ کی زندگی گزارنے کی کوشش کریں
یوں تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری دنیا ٹھپ ہوکر رہ گئی تھی جس نے دنیاوی اعتبار سے ہر انسان کو مفلوج کردیا تھا صرف یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لئے اللہ رب العزت کا گھر بند ہوجانا حرمین شریفین کی عمومی حاضری سے لے کر فریضۂ حج کی ادائیگی پر بھی پابندی لگ جانا یہ کسی مسلمان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں رہا ہوگا لیکن اس سال ایسا ہواـ اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو غنیمت سمجھ کر بارگاہِ خداوندی میں برابر حاضر ہونا چاہئے کیوں کہ قادر مطلق کے آئندہ کل کے فیصلے سے ہم آگاہ نہیں... یاد رکھیں! ہر آنے والا دن قیامت سے قریب ہوکر آنے والا ہے اس لئے ہمیں نیکی میں جلدی کرنی چاہئے اور ٹال مٹول سے بالکل اجتناب کرنا چاہئے اللہ کے گھر کو آباد کرکے اس کی خوش نودی حاصل کرنی چاہئے ـ
لاک ڈاؤن کے دنوں میں دیکھا گیا کہ میت کو دفنانے سے لیکر نمازِ جنازہ میں چند افراد کی اجازت تھی ہم نے دیکھا بہت سے بیٹے اپنے باپ اور بہت سے باپ اپنے بیٹے کو کاندھا دینے اور آخری دیدار سے بھی محروم رہ گئے اس سے ہمیں یہ سبق ملا کہ والدین کی جتنی زیادہ خدمت ممکن ہو آج ہی سے کریں اور ہر بندہ مومن اپنی آخرت کی تیاری میں لگا رہے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں داعئ اجل کی پکار پر کب لبیک کہنا پڑےـ
نکاح کی تقریبات میں بھی قلیل افراد کی اجازت تھی جو لوگ اللہ و رسول اور علماء آئمہ کی ہدایات پر عمل پیرانہ ہوکر شادیوں میں بے تحاشا اصراف کیا کرتے تھے بڑی بڑی باراتیں اور باراتیوں کے لئے درجن بھر انواع و اقسام کے کھانے اور طرح طرح کے غیر ضروری رسم و رواج کا اہتمام کیا کرتے تھے انھوں نے لاک ڈاؤن کے ایام میں حکومتی پابندیوں کے پیش نظر سادگی کے ساتھ شادیاں کیں، یہ میرے رب کا خصوصی کرم ہی کہ اس نے اہل دنیا کو سادگی کے ساتھ شادیاں اور تقریبات منعقد کرنے پر مجبور کردیاـ کاش کہ ہم مسرور ہوکر اللہ جل جلالہُ و رسول اللہ ﷺ کے فرامین پر عمل کرتے اللہ کے رسول ﷺ نے اُس شادی میں برکت کی دعا فرمائی جس میں اخراجات کم ہوں ـ
ائمہ مساجد اور مدارس کے مدرسین اور موذنین و خدام کو اپنی آمدنی کا ذریعہ صرف مساجد و مدارس کو نہیں بنانا چاہئے بلکہ اللہ توفیق دے تو آمدنی کا دوسرا بھی کوئی ذریعہ بنانا چاہئے جیسا کہ ہمارے اسلاف کرام کا اُسوہ رہا ہےـ
اس سال نے ہمیں یہ بھی درس دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف ہونا ہمارے لئے اور ہمارے طلبہ کے لئے ضروری ہے تاکہ ان حالات میں بھی تعلیم و تعلُّم کا ماحول قائم رکھ سکیں ـ
سال دو ہزار بیس نے ہمیں درس دیا کہ اپنے کمائی کا کچھ حصہ بچاکر رکھنا چاہیے کہ کب کیسے حالات پیدا ہوجائیں ہمیں معلوم نہیں ـ میں نے بہت سے خوش حال لوگوں کو لاک ڈاؤن میں پریشان حال دیکھا ہےـ قناعت کے ساتھ زندگی گزارنا بھی اللہ جل جلالہُ و رسول اللہ ﷺ کے اہم ارشادات میں سے ہے ان ارشادات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ـ اللہ رب العزت توفیق بخشے ....
اب ہم 2021ء میں سانس لے رہے ہیں امید ہے کہ اس سال ہم خوشیاں حاصل کرسکیں گے ـ معاشی طور پر مُلک عروج پر پہنچے گاـ جو کچھ خسارہ ہوا ہے وہ 2021ء میں پالیں گے ہمیں اللہ کی ذات سے امید ہے کہ 2021ء ہمارے لئے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے گاـ
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق