شہید بابری مسجد کی زمین تا قیامت مسجد ہی شمار کی جائے گی صوفی نورالعین صابری


مالیگاؤں (پریس ریلیز): روئے زمین پر کسی بھی قطعۂ اراضی پر مسجد تعمیر ہوجائے تو وہ قطعۂ اراضی تا قیامت مسجد کے نام سے ہی منسوب رہے گی۔ ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بھگوائی دہشت گردوں نے دن دہاڑے قدیم بابری مسجد کو بیدردی سے شہید کردیا تھا۔ اس المناک سانحہ پر ہندوستانی قانون و عدلیہ آنکھیں موند لے، محض تسلی آمیز بیانات سے امّت مسلمہ کو بہلاتے رہے۔ لاکھ وعدوں کے باوجود بھی بابری مسجد کی از سرِ نو تعمیر کی جانب کوئی پیش قدمی نہیں کی گئی بلکہ قانونی موشگافیوں کا فائدہ اٹھا کر آستھا کی بنیادوں پر وہ زمین جہاں بابری مسجد تھی اسے بھی بھگوائی دہشت گردوں کے حوالے کردی گئی۔ اس نا انصافی اور شہادتِ بابری مسجد کے زخم برسوں گزرنے کے بعد آج بھی تازہ ہیں بلکہ دن بدن یہ زخم ناسور بنتے جارہے ہیں اور اربابِ حکومت ہوں یا قانون و عدلیہ سب کے سب محو تماشہ ہیں۔ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی پامالی پر دنیائے عالم مدت بعد بھی محو حیرت ہے۔ ہر سال جب بھی ۶؍ دسمبر آتا ہے بابری مسجد کی شہادت کا زخم عود آتا ہے۔ کیا ہندوستانی قانون واقعی ہر مذہب، فرقہ کے ساتھ انصاف پر مبنی ہے یا پھر قانون کی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی اتاری جائے تو تبھی ہندوستانی آئین سب کے لیے یکساں و مفید ثابت ہوگا۔ *’’سنی جمعیۃ الاسلام کے صدر‘‘* اور *’’آل انڈیا علماء بورڈ‘‘* کے مہاراشٹر ترجمان *’’جانشین صوفیٔ ملّت صوفی نورالعین صابری‘‘* نے اپنا بیان درج کراتے ہوئے اربابِ حکومت اور قانون و عدلیہ سے گذارش کی ہے کہ جس مقام پر بابری مسجد تھی وہ زمین مسلمانوں کے حوالے کی جائے ہندوستانی مسلمان اُس تاریخی مسجد کی تعمیر خود کرتے ہہوئے اپنے ذمہ دارانہ ملّی فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے سرخروئی کا سبب بنیں گے۔ نیز *جانشین صوفی ملت صوفی نورالعین صابری صاحب نے امّت مسلمہ سے بھی گذارش کی ہے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی سے پرہیز کریں اور اگر اپنا احتجاج درج کرانا ہی مقصود ہوتو قانون کے دائروں میں رہتے ہوئے پُر امن طریقے سے احتجاج کریں بلاوجہ سڑکوں یا چوک چوراہوں پر بھیڑ جمع کرکے قانون توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ شہید بابری مسجد کی زمین تا قیامت مسجد کی زمین ہی شمار کی جاتی رہے گی۔

 *’’جانشین صوفیٔ ملّت صوفی نورالعین صابری‘‘*
*’’صدر سنی جمعیۃ الاسلام و مہاراشٹر ترجمان آل انڈیا علماء بورڈ، مہاراشٹر‘‘*

ليست هناك تعليقات: