اردو کے معروف بزرگ شاعر کمال جائسی ممبئی میں انتقال کرگئے

۔ انہوں نے آج رات نو بجے میرا روڈ کے غازی اسپتال میں اپنے ادبی دوستوں کی موجودگی میں اپنی آخری سانس لی۔ کمال جائسی کافی عرصے سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھے۔  
کمال جائسی کا کورونا کے حوالے سے کلام 

دہشت کا ہے ماحول طرفدار کورونا

 بنتا ہی گیا سرخیُ اخبار کورونا

 انساں کے لئے  وقت کا آزار کورونا 

ہو جائے  گا اک روز تڑی پار کورونا

  کیا تیری حقیقت ہے ذرا سوچ سمجھ لے

 کس کھیت کی مولی ہے چڑی مار کرونا

 بیماریاں  پھیلانے کا فن تجھ کو ملا ہے 

ہر دیش ہوا تجھ  سے  خبر دار کورونا 

شاعر ہوں کہ نیتا ہوں سبھی خوف زدہ ہیں 

کرنے لگا ہے موت کا بیو پار کورونا

 مسجد کے نمازی ہوں کہ مندر کے پجاری

 تجھ سے نظر آنے لگے بیزار کورونا

 امریکی سیاست ہو کہ چینی ہو قیادت 

تو ہو نہیں. سکتا ہے وفا دار کورونا

 تو  اب بھی سیاست کی گرہ کھول رہا ہے

 رسوا ہے بہر کوچہ و بازارکورونا

  دنیا نے ترے روپ کو پہچان  لیا ہے

 لعنت کی پڑی تجھ پہ جو پھٹکار کورونا 

افراد کےمجمعے میں چلا آتا چھپ کر

 سب تجھ کو سمجھنے لگے غدّار  کورونا 

(کمال جائسی)
Report by. Ahemad naeem

کوئی تبصرے نہیں: