شمس الرحمن فاروقی ایک عہد ساز شخصیت: ڈاکٹر محمد حسین مشاہدر ضوی

شمس الرحمن فاروقی کی رحلت  اردو ادب کایقینا ایک ایسا ناقابل تلافی نقصان اور ایک ایسا ادبی خلاہے جس کا پُرہونا مشکل نظر آتا ہے۔ موصوف میدان ادب کے مجاہد تھے۔ آپ نے اپنی تصانیف کی شکل میں اردو ادب کو ایسے ایسے کوہِ نور ہیرے دیے ہیں جن کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑے گی۔ شعرِ شور انگیز ہو، عروض آہنگ اور بیان ہو کہ کئی چاند سرِ آسماں ہو کہ میدانِ افسانہ اور فکشن کا کوئی گوشہ ہو ۔ موصوف نے ہر میدان میں ، ہر صنف میں اپنا لوہا منوایا۔ آپ اردو ادب کے سچے خدمت گار تھے آپ کے چلے جانے سے اردو کازبردست خسارہ ہوا ہے۔ سچ ہے کہ آپ لسانی سطح پر ایک عہد ساز شخصیت تھے آپ کے جانے سے ایک عہد کاخاتم ہوا ہے۔ ان کی رحلت کو عوام و خواص تاعرصہ فراموش نہیں کرسکیں گے۔ ہمیشہ انھیں یاد رکھا جائے گا۔ وہ ادب کے ایک متبحر عالم تھے۔ خصوصاًقلم اور تحریر کے شہسوار تھے ، ان کی کتب و مضامین پڑھنے سے یقینا ہر قاری یہ نتیجہ اخذ کرے گاکہ بڑے بڑے دقیق مسائل انتہائی سہل اسلوب سے حل کردینا اور تحریرکردینا انہی کاخاصہ تھا۔ میرے دیرینہ کرم فرما مشہور شاعر و ادیب جناب سید فاضل میسوری نے آج ان کی رحلت پر کہا کہ شمس الرحمن فاروقی صاحب کا بڑا کارنامہ میری نظر میں یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک نے جو الحاد کا دروازہ کھول دیا تھا اس کے سدِ باب کے لیے ’’جدید اردو ادب‘‘ متعارف کیا۔واقعی اس میں کوئی دو رائے نہیں ۔ 
فاروقی صاحب سے میراقلمی رابطہ رہا نیز ٹیلی فونک مراسم بھی رہے موصوف ہمیشہ بڑی محبت سے گفتگو کرتے علمی وادبی رہنمائی فرماتے۔عدیم الفرصتی کے باوجود خطوط کے جوابات لکھتے ۔ اگر کبھی کسی وجہ سے جواب لکھنے میں تاخیر ہوجاتی تو اس قسم کے جملے ضرور لکھتے :
’’ شرمندہ ہوں کہ جواب لکھنے میں اتنی دیر ہوگئی ۔ آپ کا خط کاغذوں کے نیچے دبا رہ گیا ۔ امید ہے کہ آپ اس سہو کو معاف فرمائیں گے۔‘‘
 اللہ اکبر سوچیے تو سہی اردو کی اتنے بڑی اور بے پناہ مصروف ترین شخصیت اتنی سادگی اور خلوص کے ساتھ چھوٹوں پر شفقت کیا کرتے تھے۔ اسی طرح علمی و ادبی حوصلہ افزائی کرنے میں بھی کبھی بخیلی کا مظاہرہ نہیں کیا کرتے تھے۔ جب میں نے انھیں اپنا نعتیہ دیوان ’’ لمعاتِ بخشش‘‘ ارسا ل کیا تو جواباً یوں حوصلہ افزائی فرمائی:
’’ آپ کا نعتیہ دیوان ’لمعاتِ بخشش‘ ملا، شکریہ ۔ کتاب بہت خوب ہے ۔ میں نے اسے جگہ جگہ دیکھا۔ بہت متاثر ہوا ۔ ایسے پُرخلوص کلام کے لیے میری طرف سے مبارک باد قبول کریں ۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب توشۂ آخرت میں اضافہ کا باعث ہوگی ۔ آپ نے کتاب کا نام ایسا رکھا ہے کہ امام احمدرضا خان صاحب کے مجموعے ’حدائق بخشش‘ کاخیال آتا ہے۔‘‘
ان کے کئی خطوط میرے پاس یادگار اور میرے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ میرے پی۔ایچ۔ڈی۔ کے دوران ’’نعت کی صنفی حیثیت‘‘ سے متعلق جب میں نے ان سے سوال کیا اور انھوں نے جو جواب عنایت کیا اس سے میرے عنوان کی منظوری کی را ہ میں حائل دشواریاں دور ہوگئیں یہ مجھ پر فاروقی صاحب کا بہت بڑا احسان ہے جسے میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا۔ 
آپ  نہایت خوش عقیدہ شخص تھے ۔اعلیٰ حضرت امام احمدرضا کا ذکر بڑے ہی ادب و احترام سے کیا کرتے خصوصاً رئیس اڑیسہ مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن رحمۃ اللہ علیہ سے انھیں گہری عقیدت وارادت تھی۔خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کی علمی خدمات کا ہمیشہ کھلے دل سے اعتراف کیا کرتے تھے۔ٹیلی فونک گفتگو کے دوران جب موجودہ سجادہ نشین پروفیسر ڈاکٹر سید محمد امین میاں مارہروی اوران کے چھوٹے بھائی مشہور فکشن رائٹر سید محمد اشرف صاحب  اور ان حضرات کے دادا جان محترم سید شاہ آل عبا آوارہ مارہروی کا ذکر جب نکلتاتو بہت تعریفیں کیا کرتے اور مجھ سے کہتے کہ آپ نے بہت بڑی اور قابل احترام شخصیات کی قربت حاصل کی ہے جو ایک قسمت والے کو ہی ملتی ہے۔ سال 2020ء بڑ ے درد و کرب کاسال رہا بڑی بڑی دینی ،علمی، ادبی شخصیتیں اس سال ہم سے جداہوگئیں۔ مقتدر علماے ذو الاحترام ، ساداتِ کرام ، علماے ادب اور عوام و خواص کی رحلت کے سبب اس سال کو ’’عام الحزن‘‘ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ رؤف ورحیم مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے فاروقی صاحب کی مغفرت فرمائے ، آمین ! 
ڈاکٹر محمد حسین مشاہدرضوی، مالیگاؤں
25؍ دسمبر 2020ء بروز جمعہ بعد نمازِ مغرب

ليست هناك تعليقات: