چینی حکومت مذھبی دہشت گردی کے ذریعے صدیوں سے آباد مسلمانوں کی نسل کشی اور مذھبی حقوق کو پامال کر رہی ہے :الحاج سعید نوری
ممبئی :چین میں صدیوں سے آباد ایغور مسلمانوں پر وہاں کی منتخبہ حکومت کے ذریعے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں یہاں تک کہ ان کے مذھبی حقوق کو بھی مسلسل پامال کیا جا رہاہےجس پر اقوام متحدہ سے لے کر پوری عالمی برادری خاموش ہے چینی مسلمانوں پر دن بہ دن مظالم کے واقعات سو شل میڈیا سے لے کر دیگر ممالک کے چینل بھی دکھاتے ہیں لیکن اس ظالم حکومت کے خلاف آج تک کسی نے بھی عملی اقدامات کی کوشش نہیں کی ہے جس کو لے کر پوری دنیا کے مسلمان تشویش میں مبتلا ہیںاس سلسلے میں عالمی تنظیم رضا اکیڈمی نے چائنا مظالم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کر کے عالمی دنیا کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔آج چائنا کے خلاف مینارہ مسجدمحمد علی روڈ ممبئی کے سامنے رضا اکیڈمی کے کارکنوں نے زبردست احتجاج درج کرایا ہاتھوں میں پلے کارڈ جس میں چائنا مردہ باد ،مسلمانوں کو مذھبی آزادی دو جیسے نعرے درج تھےساتھ ہی شرکاء احتجاج نے بھی چائنا کے خلاف خوب نعرے بازی کی مذکورہ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ تنظیم کے چئیر مین قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ چائنا سے مسلسل مسلمانوں پر تشدد کی خبریں آرہی ہیں ان کے مذھبی رسومات کو روکا جا رہا ہے یہاں تک کہ قرآن پاک کی تلاوت،نماز پر پابندی ،نومولود بچوں کا نام محمد رکھنے پر حکومتی سطح پر پابندی عائد ہے بلکہ وہاں کے مسلمانوں کو حرام اشیاء کھانے پر مجبور کیا جا رہاہے یہ جہاں ایک طرف مذھبی استحصال ہے وہیں عالمی قوانین کے خلاف ورزی بھی ہے لہذا،اقوام متحدہ کو چاہیئے کہ وہ چائنا کے مسلمانوں کے حقوق پر فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرکے ایک قرار داد پیش کرے تاکہ چینی مسلمانوں کو ان کے مذھبی عبادات کی مکمل آزادی حاصل ہو ۔نوری صاحب نے مزید کہا کہ جرمن وزارت خارجہ کے رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۶ء؍ کے بعد سے چینی مسلمان خاص کر ایغور مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے سروے کے مطابق ۱۰؍ لاکھ سے زائد مسلمان آج بھی جیلوں میں قید ہیں جن پر مظالم کے ذریعے جبراً تبدیل مذھب کیلئے دباؤ ڈالا جاتاہے عورتوں کی جنسی استحصال کیا جا رہا ہے نئی نسل کو ایک پلاننگ کی تحت کمیونسٹ بنانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے جس پر پوری دنیا کو آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ورلڈ جنرل سیکریٹری حضرت نوری صاحب نے اوآئی سی تنظیم کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت کے خلاف آج تک اس تنظیم نے کوئی آواز بلند نہیں کی ہے لہذا ایسی تنظیم کو ختم کرکے دوسرے ایسی تنظیم کی تشکیل دی جائے جو مسلمانوں کے حقوق پر کام کر سکے ۔حضرت مولانا محمود عالم رشیدی صاحب نے کہا کہ چین ایک طرف اپنے پڑوسی ملکوں کی زمینوں کو غصب کر رہاہے یہاں تک کہ آئے دن ہمارے ملک کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے لہذا حکومت ہند سے ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ وہاںآباد چینی مسلمانوں کے حقوق کی آواز اقوام متحدہ میں بلند کرے اور یہ قرار دارخود پیش کرے کہ چائنا مسلسل اپنے ملک کی صدیوں سے آباد مسلمانوں کی حقوق کوصلب کر رہا ہے وہیں وہ ہر دن پڑوسی ملکوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے لہذا اس پر روک لگائی جائے حضرت مولاناولی اللہ شریفی صاحب نے کہا کہ چین ظلم و تشدد کے ذریعے عالمی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے وہاں کے مسلمانوں کا مذھبی استحصال کر رہا ہے مگر کوئی بھی ملک چائنا کے خلاف بولنے کو تیار نہیں آخر ایسا کیوں ہے کیا وہ سوپر پاور بننے کی دوڑمیں ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ جتنے بھی ملک ہیں سب باہمی اتفاق رائے سے چائنا کو سبق سکھائیں اور وہاں کے آباد مسلمانوں کے حقوق دلانے کی کوشش کریں۔احتجاج میں شامل شہزادۂ سراج ملت سید سبحانی میاں ،حضرت مولانا محمد عباس رضوی ،حضرت مولانا فیاض احمد برکاتی ،حضرت مولانا محمود علی اشرفی، حضرت مولانا نظام الدین سبحانی ،حضرت مولانا ظفرالدین رضوی ، حضرت مولانا افروز علیمی ،حضرت قاری عبدالمعبود نظامی ،قاری عبدالمبین ،مولانا معین الدین ،حافظ جنید رضا رشیدی ،یوسف نوری چیمبور،محمد حسن نوری ،محمد ناظم خان ،شیر خان گوونڈی اور دیگر حضرات شامل تھے ....۔فقط محمد عارف رضوی سیکریٹری رضا اکیڈمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں