*لاکھوں کی آبادی والے شہر میں عوام کو پلے گراؤنڈز، انڈور اسٹیڈیم اور جاگنگ ٹریکس مہیا کرانے میں اب تک ناکام رہے سیاسی لیڈران اپنی نااہلی، ناکامی، خود غرضی اور مفاد پرستی کو چُھپانے کیلئے کمیونل کارڈ کھیل کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جِسے اب شہر کی بیدار عوام سمجھنے لگی ہے۔* (کلیم یُوسف عبداللہ)

مالیگاؤں شہر میں تقریباً 80 ہزار سے زائد کرکٹ و دیگر گیمز کھیلنے والے بچّے، نوجوان موجود ہیں جِنکی تعداد دن بہ دن تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن اِنہیں کھیلنے کیلئے اچھے اور کشادہ پلے گراؤنڈز، اِنڈور اِسٹیڈیمز اور جاگنگ ٹریک وغیرہ دستیاب نہیں ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ کِن لوگوں نے مِل جُل کر قوم کے بچوں کی اِن امانتوں میں خیانت کی ہے؟ 

کیا مالیگاؤں شہر کی عوام نے جزباتی تقریر کرنے والے قَوم فروش اُن سیاسی ٹھیکیداروں سے کبھی سوال کیا کہ ہمارے بچوں کیلئے طے شدہ پلے گراؤنڈ ریزرو زمینوں کا اُن لوگوں نے کیا کِیا؟ اگر نہیں کیا تو اب انسے سوالات کی شروعات کریں۔ اگر شہر کے مشرقی حصے میں ہماری قوم کے بچوں کے کھیلنے کیلئے اچھے میدان ہوتے تو وہ دُوسری طرف کیوں کر جاتے؟ 

جزباتی تقاریر اور گمراہ کن باتوں میں الجھا کر ہمارے بچوں کا حق اور انکا مستقبل ان سے کون چھین رہا ہے؟ آج ہمارے شہر کی آبادی کے لحاظ سے درجنوں پلے گراؤنڈز اور انڈور اسٹیڈیمز کی ضرورت ہے، لیکن شہر کی مظلوم عوام اِن تمام سہولیات سے بھی محروم ہے۔ ایسی صورت میں پُورے شہر سے ہمارے کھِلاڑیوں کو بحالت مجبوری مغرب کا رُخ کرنا پڑتا ہے یا مشرقی علاقوں میں ہائی وے سے لگ کر کھُلی زمینوں پر کھیلنے کے لیے جانا پڑتا ہے جِس کی وجہ سے انہیں اَن گِنت تکالیف کا سامنا رہتا ہے، ٹرافِک کنجیشن، دُھول، ڈیزل پیٹرول و دیگر اخراجات کا سالانہ مجموعی طور پر عوام کی جیب پر لاکھوں روپے کا بوجھ پڑتا ہے جِس میں اکثریت غریب مزدور طبقہ کی ہوتی ہے، دور دراز آنے جانے میں کئ لوگ ایکسیڈنٹ کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی اِن پریشانیوں کے اصل ذمہ دار ہیں؟ شہر کے مفاد پرست لیڈران نَوجوان نسل کو پلے گراؤنڈز،جاگنگ ٹریک، اِنڈور اسٹیڈیمز و دیگر بنیادی سہولیات مہیا کرانے میں اب تک ناکام رے ہیں اِسکے باوجود عوام کا ایک بڑا طبقہ ان لوگوں کی اندھ بھکتی اور چاپلوسی میں مصروف ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ جِن لوگوں نے ہمارے اپنے بچوں کا حق اور خوشگوار مستقبل انسے چھینا ہے ہم انہیں لوگوں کی سرکس، ڈرامے بازی اور گمراہ کن باتوں میں الجھ کر انہیں مسیحاۓ قوم سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جو لیڈران اور سیاسی خاندان بیس بیس، تیس تیس سالوں سے شہر کے سیاسی اقتدار اور اہم عہدوں پر قابض رہے، جنہوں نے شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے آج تک کچھ نہیں کیا، عوامی خزانوں کو لوٹتے رہے وہ لوگ ہماری قوم کے بچوں کی مجبوی اور لاچاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مذہبی رنگ دیکر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، جسے اب عوام اچھی طرح سمجھ چُکی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ شہر بھر سے بیدار عوام بالخصوص نوجوان آگے آئیں اور شہر کو تباہی و بربادی کی راہ پر  لے جانے والوں، عوامی خزانہ لوٹنے والوں، قوم کے بچوں کا مستقبل تباہ کرنے والوں اور عوام کو گمراہ کرنے والوں کا مضبوطی کے ساتھ سیاسی طور پر خاتمہ کریں۔

کوئی تبصرے نہیں: