*حکومت مہاراشٹر کا اقدام لائق ستائش، دیر آید درست آید کے مصداق۔*
ممبئی: مہلک وباء کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کو سخت تکلیفیں اٹھانی پڑیں، خاص طور پر مسلمانوں کو ان کے مذہبی امور کی انجام دہی میں بڑی دشواریاں پیش آئیں، جس میں سب سے اہم پنج وقتہ نماز باجماعت کا مسئلہ درپیش رہا۔ حکومت و انتظامیہ نے مساجد میں پانچ افراد سے زائد پر روک لگا رکھی تھی جسے تقریباً آٹھ ماہ کے بعد حکومت مہاراشٹر نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے ختم کیا اور مساجد و درگاہوں کو دوبارہ کھولنے کی مشروط اجازت دے دی،
جو مسلمانوں کے لیے خاص طور پر خوش آئند بات ہے۔
جس کیلئے ہم سب کو پہلے رب کریم کا فضل خاص جان کر
سجدہ شکر بجا لانا چاہئے اور نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہِ ناز میں ہدیہ درود و سلام نذر کرنا چاہیے، جن کے صدقے ہمیں پھر سے اللّٰہ رب العزت کے گھر میں سجدہ ریز ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
اس موقع پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے چیئرمین، قائد ملت، محافظ ناموسِ رسالت، حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ مسلم امہ کو اپنے رب کی رحمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے، وہ کبھی بھی اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا، یقیناً لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم اجتماعی طور پر مساجد و مقابر سے دور رہے
جسے ایک مشکل دور کہا جاسکتا ہے۔
لہذا اب جبکہ 16 نومبر سے مساجد و درگاہیں کھل رہی ہیں تو اب ہمیں اجتماعی طور پر چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ آزادی کے ساتھ نماز باجماعت کا اہتمام اور درگاہوں پر مزاراتِ اولیاء کی زیارت اور ایصالِ ثواب کا اہتمام تسلسل کے ساتھ کیا جائے۔
اس خوشی کے موقع پر ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے دو رکعت نماز نفل شکرانے کے طور پر ادا کریں، اور رب قدیر کی بارگاہ میں دعا کریں کہ اب دوبارہ اس کا گھر اور اس کے محبوب کا در ہم سے چھوٹنے نہ پائے، اسی طرح کرونا بیماری کے مکمل خاتمے کی دعاء کا اہتمام بھی کریں۔ اس طرح کی اپیل و گزارش رضا اکیڈمی کے محمد عارف رضوی نے کی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں