(مالیگاؤں14 اکتوبر بروز بدھ عمار انصاری)
بی جے پی حکومت"بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ" کا نعرہ دے رہی ہے جبکہ حکومت والی ریاستوں میں خواتین پر مظالم کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کےہاتھرس میں منیشا والمیکی کی اجتماعی عصمت ریزی کا واقعہ اس کی تازہ مثال ہے۔اس واقعہ میں ملوث زانیوں کو فوری پھانسی کی سزا دی جائے،متاثرہ خاندان کی مدد کرنے اور متاثر لڑکی کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات فوری واپس لیے جائیں۔اس طرح کے مطالبات تحریر اسکوائر فاؤنڈیشن گرلز ونگ نے کیا۔
ہاتھرس واقعہ کی مذمت میں تحریر اسکوائر فاؤنڈیشن گرلز ونگ مالیگاؤں نے کل شام ۴ بجے آنلائن طریقے سے احتجاج درج کروایا اور خواتین کے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام یوگی حکومت کی سخت سرزنش کی گئی۔اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی پیش آچکے ہیں اور مسلسل واقعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ زانیوں اور خاطيوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے جسکی وجہ سے ان کے حوصلے اور بلند ہورہے ہیں۔حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ زانیوں کو فوری سخت سزائیں دیتی جس سے مجرموں کے حوصلے پست ہوتے لیکن اس حکومت میں مجرموں کو جرائم انجام دینے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ملک کے تمام ریپسٹوں کو چوک چوراہے پر لاکر سر عام پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ مجرموں کی روح کانپ اٹھے اور ملک میں رونما ہونے والے عصمت دری کے تمام واقعات کی فاسٹ ٹریک کورٹ میں سنوائی ہو۔TSF ہاتھرس سانحہ کی پرزور مذمت کرتی ہے اور ملزمین کو سخت سزا دی جائے اس طرح کا مطالبہ حکومت سے کرتی ہے۔اس احتجاج میں تحریر اسکوائر فاؤنڈیشن گرلز ونگ مالیگاؤں کی مدیحہ مشتاق احمد،فرحین ناز،حمنا صدف،اقصی اخلاق،نجمہ کے علاوہ دیگر ممبران موجود تھیں۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق