کارپوریشن برسرِ اقتدار ٹولہ واٹر گریس کمپنی کے ذریعے شہری خزانے کو لوٹ رہا یے ‏

انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے پورے ملک پر قبضہ کر لیا تھا باپ (انگریز ) تو مرگئے پر اولاد چھوڑ گئے اصل کانگریسی کون؟؟یااصل بابا سیاست کون؟؟
ایک زمانہ تھا جب مالیگاوں میونسپلٹی سے ناسک شہر کو قرض دیا جاتا تھا. اور مالیگاوں شہر میں نلوں میں دو مرتبہ پانی ملا کرتا تھا. شہر میں تعمیراتی کام اتنے پائیدار ہوتے تھے کہ آج بھی توڑنے سے نہیں ٹوٹتے باغ باغیچوں کی زمینیں پلاٹ بنا کر نہیں بیچی جاتی تھیں شہر میں جاروب کشی بلا ناغہ ہوا کرتی تھی. صاف صفائی کا بہت اچھا تو نہیں لیکن معقول نظم تھا. کئ ایسے تعمیراتی کام جن پر آج بھی شہریان کو ناز ہے اس وقت ہوا کرتا تھا. شہر میں پائیدار کاموں کے ساتھ ساتھ اس وقت کے رہنماؤں نے تعلیمی اداروں کے ذریعے اپنی اور اس شہر کی شناخت بنائی جب جا کر ان کو کئی القابات سے نوازا گیا
لیکن وقت نے کروٹ لی پارٹیاں  وہی ہے لیکن پارٹی کو چلانے والے چہرے بدل گئے. چہرے کیا بدلے ذہنیت بھی بدل گئ اور جب ذہنیت چوری چماری کی بنی تو اس شہر کی تقدیر(خراب) بدل گئ
جس جگہ تعلیمی ادارے بننا تھے اس جگہ جگار خانے بن گئے. جہاں باغ باغیچے تعمیر ہونا تھے اس جگہ عیاشی کے اڈے بن گئے،جہاں بچوں کے لئے کھیل کود کے سامان میسر ہونا تھے اس جگہ غریبوں کو جھانسہ دیکر پلاٹ بنا کر بیچ دئے گئے
جب شہر میں صاف صفائی کا نظام بگڑا ہوا تھا اس جگہ اپنے سیاسی فائدہ کیلئے اور ٹھیکہ دے دیا گیا اس پر طرہ یہ ہے کہ ہم معمار قوم ہیں

،، ہم بابائے سیاست ہیں،،

150 ٹن اضافی کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ ایک منصوبہ بند شازش ہے جس میں ایک مخصوص ذہنیت کار فرما ہے. ہو سکتا ہے کہ گھرانہ الگ ہو سیاسی جماعتیں الگ ہوں لیکن سیاسی ہتھکنڈے ایک ہی ہیں ہاں بس جھگڑا روپئوں کا ہے اگر یہ کام بندر بانٹ کی طرح ہوتا تو سب خاموشی سے ہوتا بالکل شیخ اپنی دیکھ کی طرح
ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے انگریز جس طرح ملک پر قابض ہوئے  ,, یہ واٹر گریس کمپنی بھی کچھ اسی طریقے کا کھیل کھیل رہی ہے 
 کارپوریشن کے برسرِ اقتدار ٹولے میں جھگڑا تو اس وقت شروع ہوا جب ساری دال اپنی روٹی پر کھینچنے کی بات آئی
لیکن شہریان کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ چکی کہ اس معاملے میں دونوں پارٹیاں (گھرانے) ملی جوڑ لڑ رہے ہیں اور اس کا بھگتان شہریان کو ہی بھگتنا ہے
 ✍🏻 تنویر اشرف توکل نگر

ليست هناك تعليقات: