محمد عارف نوری
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)
(پریس ریلیز) مالیگاؤں شہر میں تقریباً 155 آنگنواڑی اسکولیں جاری ہے ان اسکولوں میں پڑھنے والے غریب بچّوں کو کھچڑی وغیرہ پکا کر دی جاتی تھی مگر کرونا مہماری اور لاک ڈاؤن کے بعد حالات کے پیشِ نظر اناج کو کچّا ہی کِٹ کی صورت میں تقسیم کرنے کا حکم سرکار نے ٹھیکیدار کو جاری کیا جسمیں گیہوں، چاول، نمک، چاولی، دال، پیسی لال مرچ، تیل، ہلدی، چنا وغیرہ پیکنگ کرکے کِٹ کی شکل میں بچِوں کو تقسیم کیا جاتا ہے مگر دیکھا جارہا ہے کسی اسکول میں تین چار آئٹم ہی دیا جارہا ہے کسی کو دس سے بھی ذیادہ دیا جارہا ہے کسی کو بالکل ہی نہیں دیا جاتا اکثر سرپرستوں کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا یہ اناج اسکولوں میں پڑھنے والے غریب بچّوں کا حق ہے اسے ضرور حاصل کریں۔ سرپرست حضرات توجہ فرمائے اگر کسی اسکول میں اناج دینے سے انکار کیا جائے یا کم دیا جائے تو اُس آنگنواڑی (آپا) کے خلاف تحریری شکایت سندیش ٹاکیز کے پاس نندہ دیپ بلڈنگ بال وِکاس پرکلپ ادھیکاری کے پاس درج کرائیں۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق