شہر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں کارپوریشن "پیسنٹ ہیلپ ڈیسک" قائم کرے : مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ
ہسپتال میں ڈاکٹروں سے زیادہ آوارہ کتے اور گانجا پینے والے افراد وقت دیتے ہیں
مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر کے قدیم سرکاری علی اکبر ہسپتال میں مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ (ایم ڈی ایف) تنظیم کے نوجوانوں نے ہنگامی دورہ کیا.نیز ہسپتال کا مکمل جائزہ لیا اور وہاں موجود اسٹاف سے بات چیت کی. ایک طرف اس ہسپتال میں طبی سہولیات و طبی لوازمات کا فقدان ہے. دوسری طرف ڈاکٹرز و دیگر اسٹاف کی بھی کمی ہے. سرکاری ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹرز ہمہ وقت غائب رہتے ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی کیسز کو فوری طور پر نجی ہسپتالوں میں بھیج دیا جاتا ہے.
کارپوریشن کے زیر اہتمام جاری علی اکبر ہسپتال میں سونوگرافی مشین ہی نہیں ہے اور نہ ہی ایکسرے مشین پر کوئی آپریٹر یعنی ایکسرے مشین دھول کھاتی پڑی ہے اسطرح کا بیان احتشام بیکری والا نے دیا. احتشام بیکری والا نے کہا کہ ایم ڈی ایف کے اراکین کو بار بار علی اکبر ہسپتال میں ہورہی غریب مریضوں اور حاملہ خواتین کے ساتھ ناانصافیوں اور تکالیف کے بارے میں بتایا جاتا رہا اور آج ایم ڈی ایف کے نوجوانوں نے ہسپتال پہنچ کر دیکھ بھی لیا.
عمران راشد نے کہا کہ آج کارپوریشن میں کووڈ کے نام پر لوٹ گھسوٹ چالو ہے. لاک ڈاؤن میں ہوئی ہزاروں جانوں کا سودا کیا گیا اور اب سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں, حاملہ خواتین, نومولود بچوں و دیگر عام مریضوں کی جان کی کوئی پرواہ نہیں کی جا رہی ہے. مریضوں کو بلا تشخیص فائل بنا کر گیٹ کے باہر چھوڑ دیا جاتا ہے. انھیں مکمل جانکاری بھی نہیں دیجاتی ہے اور وہ در در بھٹکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کیبن کے باہر لگے تالے دیکھ کر لگتا ہے کہ ڈاکٹرس صرف حاضری لگانے آتے ہیں. ہسپتال کے صحن میں بیس سے زائد تعداد میں آوارہ کتے اور گانجا پی کر سونے والے افراد ان سے زیادہ وقت یہاں دیتے ہیں.
ایم ڈی ایف کے نوجوانوں نے علی اکبر ہسپتال میں موجود مریضوں سے بھی بات چیت کی اور ان کی تکالیف کو جاننے کی کوشش کی. ایک غریب حاملہ خاتون نے بتایا کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ نجی ہسپتال میں جاکر سونوگرافی نکالے. اس خاتون نے کہا کہ انتہائی مجبوری کی بناء پر سرکاری ہسپتال آنا پڑتا ہے. ایک پاورلوم مزدور بے بتایا کہ کوئی بھی اسٹاف صحیح طور پر طبی رہنمائی نہیں کرتا ہے. اسی لئے باہر موجود ڈاکٹروں کے ایجنٹوں سے مدد لینا پڑتی ہے. وہاں موجود دیگر مریضوں کی دکھ بھری کہانیاں سن کر ایم ڈی ایم کے نوجوانوں کے آنسو آ گئے. ان نوجوانوں نے تمام مریضوں کو یقین دلایا کہ جلد ہی علی اکبر ہسپتال میں ایکسرے, سونوگرافی مشین, ای سی جی مشین, ونٹیلیٹر اور دیگر جدید مشینوں معہ آپریٹر کیلئے بھر پور کوشش کی جائے گی.
ایم ڈی ایف کے اس ہنگامی دورہ میں احتشام بیکری والا (صدر), عمران راشد (نائب صدر), اظہر رفیق (سیکرٹری), اسامہ اعظمی (ترجمان), ابوذر غفاری میکانیکل انجنئیر, زید اختر آرکیٹیکٹ, ماسٹر شبیر شیخ, پروفیسر ایس این انصاری, پروفیسر حبیب الرحمن, رئیس عثمانی, ببو ماسٹر, وسیم بیگ, افضال پرویز ایم آر, ندیم شیخ و دیگر فعال اراکین نے شرکت کی.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں