جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی فروغ جعفری کچھ یادیں کچھ باتیں۔ نعیم سلیم ‏

فروغ جعفری صاحب سے چند سال پہلے ادبی نشستوں میں شرکت کے دوران تعارف ہوا. قلیل مدت میں کم ہی ملاقاتیں ہوئیں . پھر آپ نے عوامی فنکار واٹس ایپ گروپ بنایا تو اس میں بھی شامل کیا.یہاں اس فنکار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا. رائٹر، ڈائریکٹر، ایکٹر، صحافی، اور قلمکار ایسے کہ بیک وقت عالمی، ملکی، ریاستی، شہری سیاست پر بے لاگ تبصرہ،  طنزومزاح سے بھر پور کوئی تحریر، اور پھر ہالی وڈ بالی وڈ فلموں پر تبصرہ، تو کبھی انگریزی ناولوں، ادیبوں، ڈرامہ اور اس کے فن پر بات غرض یہ کہ بے پناہ صلاحیتوں کے حامل
 فروغ جعفری بلامبالغہ اپنے آپ میں  ایک انجمن تھے. لیکن جب ویسی قدر نہیں ہوئی جس کے حقدار تھے تو پھر تیور باغیانہ ہوگیا. 
آپ سے ادبی، تعلیمی، سماجی، سیاسی، مذہبی و مسلکی تمام موضوعات پر بات ہوئی. ہر موضوع پر فروغ بھائی دسترس رکھتے تھے. اپنے موقف پر ڈٹے رہتے مگر مقابل کے نظریات کا بھی احترام کرتے تھے.دوران گفتگو ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے درمیان عقائد و نظریات میں اختلافات ہیں مگر ایک چیز کامن ہے جس کی مجھے خوشی ہے، وہ ہے محبت اہلِ بیت.... 
اور کیوں نہ ہو کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والا کبھی ان کی آل سے بغض رکھ بھی نہیں سکتا. ہم گناہگاروں کیلئے یہی تو سرمایہ ہے...
کالج کے زمانے میں سٹی کالج آنے والا کوئی شخص کسی کو جانے نہ جانے وہ فروغ جعفری اور نفیس ڈانسر کو ضرور جانتا تھا کہ یہ اسٹوڈنٹس لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے اور ثقافتی تقاریب کی جان تھے. چہرے مہرے وضع قطع سے فلمی ہیرو نظر آنے والے فنکار سے ایک مرتبہ میں نے پوچھا فروغ بھائی آپ گریجویشن کے بعد اگر بی ایڈ، ایل ایل بی وغیرہ کرلیتے تو آج اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر  نمایاں مقام پر ہوتے تو جواب میں کہا کہ " یار اس وقت تو دھن سوار تھی ہیرو بننے کی. جس کے آگے تمام پروفیشن فیل تھے. بالی وڈ میں انٹری کیلئے ہاتھ پاؤں بھی مارے مگر وہاں وسیلہ بہت تگڑا لگتا ہے. سو آج تک جہد مسلسل جاری ہے دیکھتے ہیں کب تک چلتا ہے....."
شہزادوں کی طرح پلنے بڑھنے والا شخص بہت ساری آرزوؤں کی تکمیل کیلئے لگاتار جدوجہد کے بعد بھی کوششیں ثمر آور نہ ہوتی دیکھ کر افسردہ ہوگیا. اس میں ان کی کوتاہی بھی شامل تھی.وہ سیمابی مزاج جو انہیں ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتا تھا. جس سے  انتہائی نرم دل رکھنے والے اس شخص کے لہجے میں تلخی آجاتی تھی...
وہ اکثر کہتے آج لوگ زندگی کو انجوائے نہیں کررہے بس اسٹیٹس جی رہے ہیں. سماج میں ایک نام رہے اسی بھرم میں جی رہے ہیں... کچھ ہی فیصد ہیں جو زندگی جیتے ہیں باقی اسٹیٹس قائم رکھنے میں پریشان ہیں.... 

اکثر شام میں شیواجی مجسمہ کے پاس ہوٹل پر بیٹھتے تھے. جہاں دوستوں سے ملاقات ہوتی رہتی تھی. دو اتفاق ایسا ہوا کہ کسی کو نام لے کر پکارا اور وہ ارجنٹ ہے بھائی، آتا بھائی بول کر چلا گیا. تو بولے ایک وقت تھا یہ میرے آگے پیچھے گھوما کرتے تھے. آج تھوڑا سا کیا بن گئے تو ایسا رویہ......... 
یہ میرے لیے بہت بڑا سبق تھا کہ معاشرہ آج صلاحیت، کردار وغیرہ نہیں موجودہ  حالت دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ اس سے تعلق رکھا جائے یا نہیں. 
دوسری اہم بات آج کوئی ادب بالخصوص نثر نگاری میں اپنا مستقبل اپنی مستقل روزی تلاش کرے تو بہت مشکل ہے. شاعری میں بھی تو  مشاعروں سے نذرانے و تہنیتی کلام سے کچھ آمدنی ہوسکتی ہے مگر نثر سے ممکن نہیں ہے. متعدد ادیب خون تھوکتے تھوکتے دنیا چھوڑ گئے. سینئر صحافی صحافت کے ساتھ ہی آبائی پیشے سے منسلک ہیں تو ان کی روزی روٹی چل رہی ہے. اسلئے کوئی نو وارد یہ قطعی سوچ کر میدان ادب میں نہ آئے کہ یہاں سے مستقل روزگار میسر ہوگا. نام اور شہرت تو مل سکتی ہے مگر ان سے پیٹ نہیں بھرتا. 
 فروغ بھائی کو اگر چند لفظوں میں بیان کریں تو ماں باپ سے بے حساب ملنے والا پیار تمام عزیزوں میں بانٹ دیا.تجربات و مشاہدات و زندگی کی حقیقتوں کو قریبی دوستوں سے شئر کیا. ان کا غم ہلکا کیا. لیکن اپنا سارا غم اکیلے سینے میں چھپائے اچانک دنیا چھوڑ گئے . الوداع فروغ بھائی الوداع.
اللہ تمہارے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ فرمائے. سئیات کو درگزر فرمائے اور تمہاری نیکیوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے. تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

🖊️نعیم سلیم مالیگاؤں

کوئی تبصرے نہیں: