ازل سے واقف احوال ہیں جہانوں کے
یہ چند لوگ جو باسی ہیں لامکانوں کے
فلک نشین ہوا پھر وہ اک ستارہ جبیں
ٹھہر گئے ہیں قدم پھر سے کاروانوں کے
ہم ایسے ناقے ہیں سیارہء اذیت پر
نہیں اٹھاتے جو احسان ساربانوں کے
یہ کس خلا کا تجسس مکین ہے مجھ میں
سفر میں رہتا ہوں ہر پل میں آسمانوں کے
وہ جسـکے ہونے سے قائم جہاں نوردی ہے
وہ جس سے حوصلہ پاتے ہیں پر اڑانوں کے
تو کیا کہ چاند کی مٹی ہے چونچ میں ان کی
حریص ہیں یہ ابھی تیرگی کے دانوں کے
گرہ کشائی پہ مامور تھے جو عالم کی
وہ بن کے رہ گئے کردار داستانوں کے
اسی لئے تو نچھاور ہیں مجھ پہ ماہ نجوم
نوادرات ہیں مجھ میں گئے زمانوں کے
سروں سے جھڑتی ہے ان کے بھی کائنات کی گرد
ہوئے نہیں ہیں جو خود اپنے آشیانوں کے
رکھا نہ جاتا ہمیں کیوں مدار وحشت میں
دراز ہم سے ہی جب کار تھے جہانوں کے
سنا ہے کرّہ ءِ آتش کی خاک ہے ان میں
اسیر ہیں جو یہ برسوں سے سردخانوں کے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں