مرحوم فروغ علی جعفری سے میری شناسائی کی کل کائنات واٹس ایپ گروپ ’’عوامی فنکاران مالیگائوں‘‘ پر محیط ہے ۔ماضی قریب میں شہر عزیز کی چند نششتوں میں ان سے علیک سلیک ضرورہوئی تھی لیکن یہ بھی اتنی رسمی اور بے نیازانہ تھی کہ اسے تعلق کے کسی شمار میں رکھا جانا بے معنی ہے ۔عوامی فنکاران گروپ میں بھی بیشتر احباب سے ناآشنائی کے باعث تکلف کی ایک دبیز چادر حائل رہی جس کے سبب چند لفظی موشگافیوں کے سوا خاموش تماشائی بننے میں عافیت سمجھی جاتی رہی ۔ لیکن اس خاموشی کا ایک فائدہ یہ ضرور ہوا کہ بعض فعّال اور متحرک احباب کا نفسیاتی مطالعہ کرنے کے لئے خاطر خواہ موقع دستیاب ہوتا رہا۔چنانچہ اس مطالعے میں باربار جس شخص کی نبض بغرض تشخیص ہاتھ میں آئی وہ مرحوم فروغ علی جعفری کی ذات تھی ۔ یوں بھی کسی چیز کا عملی تواتر اور اس کی مزاولت انسان کو مشّاق بنا دیتی ہے لہذا اس تکرار نے مجھ پر بخوبی یہ آشکار کیا کہ مرحوم کی نبض ’’نبض غیر منتظم منظّم‘‘ کی قبیل سے ہے ۔ ماہرین علم النبض جانتے ہیں کہ اس قسم کی بیمار نبض اپنی تمام تر بے انتظامیوں کے باوجود ایک مخصوص نظام پر قائم رہتی ہے اور محسوسات و ادراکات پر ایسے نقوش مرتب کرتی ہے جو دلفریبی و دلآویزی کی حد تک خوبصورت ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مرحوم کی ذات ایک عجیب قسم کے داخلی انتشار کا شکار تھی لیکن انھوں نے اپنےاس بکھرائو کو اس انداز سے سمیٹ رکھا تھا کہ دور سے دیکھنے والے کو ان کی شخصیت مزیّن نظر آتی تھی ۔وہ بلا کے اداکار تھے ،ان کی خودداری نےانھیں کبھی اس کی اجازت ہی نہیں دی کہ وہ اپنے انہدام اور داخلی کرب کو اپنے ظواہر پر مسلط کریں اور لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹیں ۔مرحوم فروغ علی جعفری مزاجاً عجلت پسند واقع ہوئے تھے ۔یہ عجلت پسندی بہتوں کا حصہ ہوتی ہے لیکن وہ ان سے بایں طور ممتاز تھے کہ وہ اپنے ذریعے کئے گئے کاموں کے نتائج میں بھی انتظار کی زحمت اٹھانے سے گریزاں رہتے ۔ نتیجہ کار ایک طرح کی بیزاری ان کے پائوں کی زنجیر بن جاتی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحوم کی ذات عدم استحکام سے عبارت تھی لیکن وہ اس عمل میں بھی انسانی جبلت پر قائم تھے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ استحکامِ کامل ربوبیت اور الوہیت کی شان ہے اور انتشار و بے اطمینانی عبدیت کی ۔چنانچہ یہ مثبت اور منفی برقی رو جس قدر آپس میں بعد کی حامل ہوتی ہیں اتنا ہی اپنی اصیل پر واقع ہوتی ہیں ۔وہ ایک خالص فطری انداز میں تشکیک کے راستے ایقان کی منزل پر گامزن تھے لیکن اپنے اثبات کے لئے انھوں نے جوں جوں قدم آگے بڑھایا ان کا دامن انکار کی بے رنگیوں سے بھرتا گیا۔ شاید ان کے عجلت پسند مزاج کو یہ معلوم نہیں تھا اس نے جس مٹی کو اپنا گھروندہ کیا ہے اس سے وابستہ زندگی بھی اسی قرینے سے متصف ہے اور وہ بھی ویسی ہی جلد باز واقع ہوئی ہے ۔ مرحوم فروغ جعفری دراصل اس شہر آشوب سے اپنی آشفتگی اور شوریدہ سری کی داد چاہتے تھے مگر شائد ان سے ہماری وابستگی اتنی پائیدار نہیں تھی کہ ہم ان کی ستائش پر رضامند ہوتے ۔ آخرکار انھوں نے عدم کی قبا اوڑھ کر فنا کے لئے عازم سفر ہونے میں عافیت سمجھی ۔ خدا سے دعا ہے کہ حیات بعد از ممات کا ان یہ سفر راحتوں بھرا ہو اور انھوں نے جس ابدی مقام کو جائےقرار کیا ہے وہ تما م طرح کی بے قراریوں سے پاک ہو۔ آمین !
✒ ڈاکٹر ارشد جمال صارم
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں