ســــــاتــــھی بلــــــند اقــــبال ۔تم بہت یاد آئے
یہ اشعار ہم اس وقت سنا کرتے تھے جب *ہمارے بھائی، ہمارے دوست، ہمارے لیڈر بلند اقبال کم عمری میں،،* صاحب،، کے شانہ بشانہ سیاسی جلسوں میں شرکت کرتے تھے. حالانکہ انھوں نے اس گھرانے میں آنکھیں کھولیں جہاں سیاست کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قد آور سیاسی شخصیت سر جھکا کر آیا کرتے تھے. اس شخص کی آغوش میں پرورش پائی جسے دنیا مزدوروں کا لیڈر کے نام سے جانتی ہے. اس ماحول میں زندگی گزاری جہاں شہریان کے مسائل کے تدارک کے اقدام اٹھائے جاتے تھے
لیکن اس کے بعد بھی اس مرد آہن،، صاحب،، نے سیاست اسے سونے کی تھالی میں سجا کر نہیں دی. صاحب نے اسے بھی سیاست کی آگ میں تپا کر کندن بننے دیا. اسے سیاست کے رموز و نکات سے بہرہ ور کیا، اسے اپنی خود کی زمین پر محنت کرنے کا عادی بنایا.... لیکن ان سب معاملات میں لانے سے پہلے
صاحب نے اسے اعلیٰ تعلیم سے بھی روشناش کرایا، کئ زبانوں پر عبور حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سیاست کی ابجد بھی سکھائ
ایک وقت تھا جب سیاست میں صاحب کا طوطی بولا کرتا تھا اور صاحب نے بھی ہر وقت ہر مسائل پر بھر پور نمائندگی کا فریضہ انجام دیا
لیکن 1999کے الیکشن میں شہر فرقہ وارانہ طور پر تقسیم ہو چکا تھا اور اس وقت صاحب کی سیاست کا سورج غروب ہوا تب بلند اقبال بھرپور جوانی کی دہلیز پر قدم بھی نہیں رکھ سکا تھا لیکن اس وقت بھی اس کے عزائم چٹان کی طرح سخت تھے اتنی کم عمری میں بھی اس نے اپنے ناتواں کاندھوں پر سیاسی، سماجی، تعلیمی، خانگی مسائل کا بوجھ بخوبی اٹھایا. تاریخ گواہ ہے کہ سیاست لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہوا کرتی ہے لیکن اس سے پرے آج بھی دشمن اس کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ ان سب خصلت سے پاک تھا جہاں سیاست کو چوری چماری کی آماجگاہ کہا جاتا ہے
واقعی میں جو بلندی اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پیدا کی تھی وہ ساری صفات وہ چنندہ لوگوں میں ہی پیدا کرتا ہے
آج بھی اس کے جانے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنوں ہی نہیں غیروں کے دلوں میں زندہ ہے. آج بھی اس کا جلوس جنازہ آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنی کم عمری میں بھی اسے اتنی عزت سے نوازا تھا اللہ رب العالمین ساتھی بلند اقبال کی مغفرت فرمائے کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے
از قلم ۔۔۔۔نویر اشرف توکل نگر
بشکریہ عبدالرحمن بھائی۔ مالدہ
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق