میرادوست میرا بھاٸی میرالیڈرساتھی بلنداقبال نہال احمد.۔۔ ‏۔از ۔قلم شعیب نہالی


یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنےکی
کہ اب تو جاکے کہیں دن سنوارنے والے تھے

*ازقلم انصاری ابوشعیب نہالی

ساتھی بلند اقبال نہال احمد یہ نام شہر میں شاید ہی کسی بچے کا ہو جیسا نام تھا ویسی ہی  شخصیت بھی تھی اپنے سیاسی کٸریر میں بہت اتار چڑھاٶ دیکھے پہلی دفعہ امیدواری کی شکست سے دوچار ہوۓ دوسری دفعہ کثیر ووٹوں سے چن کر آۓ جب کارپوریشن کے ایوان میں بولتے تو برسراقتدار کے پسینے چھوٹ جاتے بَلا کی بیباکی تھی غریبوں کے لیے درد مند دل رکھتے تھے شہر کو ایسے ہی انقلابی قاٸد کی ضرورت تھی جو شہر کو کچھ دے سکے.*
*مگر ایک مہلک مرض نے آگھیرا ایسی سرد جنگ میری چشم گنہگار نے دیکھی جسے دیکھ کر رشک بھی آتا تھا اورجسے دیکھ کر دکھ بھی ہوتا تھا دکھ اس لیے ہوتا تھا کہ ان کی بے بسی اور مضطرب حالت دیکھ کر اپنی زندگی سے یقین اٹھ جاتا تھا زندگی کی اوقات کیا ہے یہ تو پانی کے بلبلے سے بھی زیادہ کمزور ہے انہیں دیکھ کر اپنی زندگی سے اعتماد ختم ہوجاتا تھا انہیں ایسی حالت میں دیکھکر اپنی زندگی ویران لگنے لگتی اس حالت میں بھی ان کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دیکھ کر یہ اندازہ بھی ہوتا تھا کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں اب بھی تروتازه ہیں اور موت کو انگھوٹا دکھاکر زندہ دلی کا ثبوت دینے میں مصروف ہیں انہیں دیکھ کر رشک اس لیے آتا تھا کہ ایسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کہ بعد بھی وہ اللہ کے فیصلے پر راضی برضا تھے اور انکی زبان پر شکايت کی بجاۓ جذبہ ٕشکر تھرتھراتا تھا اور وہ دبے لہجے میں بولتے تھے کہ اب حالت پہلے سے بہتر ہے تم سناٶ کیسے ہو کتنے عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جو خود مریض غم ہوتے ہیں اور دوسروں کی خیریت دریافت کرتے ہیں بلاآخر ایک دن زندگی جنگ ہار گٸی اور موت اپنے مقصد میں کامیاب ہوگٸی اور ١٦ستمبر ٢٠١٩ بروز پیر کو ساتھی بلنداقبال ہمیں داغ مفارقت دے گٸے آہ کتنی اذیت دہ ہوتی ہے یہ جداٸی اور کتنے آنسو رلاتا ہے یہ نا مٹنے والا فاصلہ ..کسی شاعر نے کہا ہے
دشوار کام تھا تیرے غم کو سمیٹنا
میں خود کو باندھنے میں کٸی بار کُھل گیا
ہم ساتھی بلند اقبال صاحب کے سیاسی خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کرینگے انشإاللہ....
اللہ تبارک تعالی سے دعاگو ہوں کہ ساتھی بلنداقبال صاحب کی بال بال مغفرت فرماٸیں اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں. آمین ..

ليست هناك تعليقات: