‏مشہور سماجی خدمت گار ابوبکر صدیق ‏کا ‏بلند اقبال ‏خراج ‏عقیدت

ساتھی بلند اقبال صاحب کی رحلت نے یقیناً مجھ جیسے اور شہر کے لیے درد دل رکھنے والے افراد کے لیے بہت ہی نقصان عظیم تھا۔ وہ ہم جیسے لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔
بلکہ مجھے مرحوم نے کئی مرتبہ ساتھ آنے اور شہر کا کام کرنے کے لیے کہا کرتے تھے۔
جوکہ مجھے آج کہیں نہ کہیں افسوس ہے کہ میں مرحوم کے دوستوں میں رہا لیکن ساتھی نہ بن سکا۔
ہمیشہ بلند بھائی ہاتھ اٹھا کر سلام کیا کرتے تھے اور ملتے وقت عاجزانہ رویہ سے ملتے تھے۔ حالانکہ میرا ان کا سیاسی اختلاف تھا۔
بہرحال میں ایسا مانتا ہوں کہ بلند کی موت شہر کی بلندی کی موت تھی۔ وہ یقیناً شہر کے مستقبل تھے۔ آج بھی یقین نہیں آتا کہ بلند بھائی ہم میں نہیں۔
اور دور دور تک ان کا متبادل نظر نہیں آتا۔ جو عزت و احترام شہر کے نوجوانوں میں ان کے لیے تھا اور ان کی تقریر کا لب و لہجہ ایسا غضب کا تھا کہ بس ان کو تکتے رہو۔ نہال صاحب کی جھلک ان انداز تقریر میں تھی۔ 
آخری بار میری ان سے جو ملاقات ہوئی وہ شاید تاعمر نہ بھول سکوں۔  میں ایسا مانتا ہوں کہ مالیگاؤں شہر نے اپنے ایک شہزادہ کو کھو دیا۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگو ہوں۔
کہ جیسی شاہانہ زندگی انہوں نے دنیا میں عطا کیا اس کئ درجہ بہتر جنت میں مقام عطاء فرمائے۔آمین
خادم شہر
ابوبکر صدیقی ۔

ليست هناك تعليقات: