مذمّتی میٹنگ کل ‏جماعتی ‏تنظیم آگے ‏کا ‏لائحہ عمل ‏طئے کرے ‏گی


مالیگاؤں
آج بروز بدھ دوپہر میں 1 بجے یہ اندوہناک خبر منظرِ عام پر آئی کہ  آج سے تقریباً 29 سال قبل دن کے اُجالے میں بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا.شہید کرنے والے مجرمین جو کہ بارہا ٹیلیویژن پر آکر اپنے جُرم کا اقرار خوشی کے ساتھ کرتے رہے اُن اعلانیہ مجرمین کو کورٹ نے آج باعزّت بری کردیا.آل انڈیا سنّی جمعیۃ العلماء مالیگاؤں و دیگر شہر کی سنّی تنظیمیں اس شرمناک حرکت کی پُر زور مذمّت کرتی ہیں.اور تمام سنّی تنظیمیں حُکّامِ بالا سے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرکے بابری مسجد کے اعلانیہ مجرمین کو سخت سے سخت سزا دی جائے.بصورتِ دیگر شہرِ مالیگاؤں میں تمام سنّی تنظیموں کی جانب سے سخت تحریک چلائی جائیگی.مذکورہ میٹنگ قاضیِ اہلسنّت مفتی واجد علی یارعلوی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی.جسمیں علّامہ عبدالحی نسیم القادری صاحب،مفتی نعیم رضا مصباحی صاحب،مولانا عبداللّٰہ رضوی صاحب،حافظ سراج رضوی صاحب،حاجی یوسف الیاس،حافظ اسماعیل اشرفی ، قاری ہارون رضوی،عقیل رضوی،عمران رضوی،عرفان آمدانی،رئیس رضوی،نورالعین صابری، صوفی انیس رضوی، مدثّر رضا جیلانی،صوفی جمیل ٹیلر و دیگر احباب موجود تھے.

ليست هناك تعليقات: