*؟*
۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء دن کے اجالے میں شرپسندوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا۔ اُس دن سے لے کر آج تک مقدمہ عدالت میں جاری رہا۔ مجرمین پر کیس درج ہوا۔ جگ ظاہر رہا گناہ گار نے بار بار اقرار کیا کہ ہاں ہم نے بابری مسجد کو مسمار کیا اور جمہوری ملک میں آئین ہند کی دھجیاں اڑتی رہیں جمہوریت اور قانون کا قتل ہوتا رہا۔ آج ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۰؍ ۲۹؍ سال بعد عدالت کے ذریعے فیصلہ آتا ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کو باعزت بری کردیا جاتا ہے۔ کہاں ہے انصاف؟ سنّی جمعیۃ الاسلام کے بانی و سربراہ ’’صوفئی ملت حضرت صوفی غلام رسول صاحب قادری علیہ الرحمہ‘‘ بابری مسجد میں تالا لگنے سے شہادت تک اور تا حیات بابری مسجد کی بازیابی اور انصاف کے لیے ببانگ دہن حکومت وقت سے ہر پلیٹ فارم سے لڑتے رہے ۔ بابری مسجد دوبارہ آباد ہو مجرمین کو ان کے کیے کی سزا ملے۔ لیکن آج دن کے اُجالے میں عدالت کی جانب سے فیصلہ آتا ہے کہ دن کے اُجالے میں بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کو ان کے جرم کی سزا ملنے کی بجائے انہیں با عزت بری کیا گیا۔ سنی جمعیۃ الاسلام مالیگاؤں تمام ہی لوگوں کی جانب سے حکومت اور عدالت سے اس فیصلے پر غور کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ ہر ادارہ جماعت، تنظیم اور سیکولر ذہن رکھنے والے بابری مسجد کی شہادت پر احتجاج درج کیا۔ حکومت اور عدالت سے انصاف طلب کرتا رہا۔ مگر آج ’’آہ! بابری مسجد۔۔۔۔ ہم تیرے لیے کچھ نہ کرسکے۔‘‘ ہندو فرقہ پرست اور آر ایس ایس ذہنیت رکھنے والے آج اقتدار کے نشے میں آئین ہند کا گلہ گھونٹ رہے ہیں اور بابری مسجد کی شہادت کے مجرمین کو باعزت رہائی ملتی ہے۔ اگر عدالت اور حکومت فیصلے پر غور نہیں کیا تو ملک میں جمہوری ڈھنگ سے احتجاج ہوگا اور انصاف کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ہنگامی طور پر میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ عدالت کے فیصلے پر غور کرنے کے بعد احتجاج درج کرانا وقت کی اہم ضرورت مانا گیا۔
حاضرین میں جانشین صوفئی ملّت حضرت پیرزادہ نورالعین صابری، سیٹھ اکبر اشرفی ، صوفی سعید احمد سعدی، خطیب ملت صوفی انیس احمد قادری، حافظ محمد اسمٰعیل اشرفی، انصاری نصیر احمد رضوی، قاری نور محمد چشتی، مولانا مختار اشرفی، حافظ عرفان رضا، صوفی بلال صابری، صوفی کلیم قادری، محمد اعظم چشتی، صوفی عبدالماجد قادری، محمد عابد کاملی، رضوان سیٹھ، محمد اسلم صابری وغیرہ شریک رہے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق