*کورٹ کا فیصلہ ہمارے گلے نہیں اُتر رہا ہے**ہمیں سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے*


مالیگاؤں 30 ستمبر 2020 بروز بدھ : ملک کے دستور و سیکولرازم کا گلہ 6 دسمبر 1992 کو گھوٹا گیا اور آج دستور کا دم نکل گیا. بابری مسجد انہدام معاملے میں 49 ملزمان پر کیس چل رہا تھا، 49 ملزمان میں حیات 32 ملزمان کو آج کورٹ نے باعزت بری کردیا. جنتادل سیکولر جو کہ 19 جولائی 1992 سے *بابری مسجد بچاؤ کمیٹی* کے نام سے ساتھی نہال احمد صاحب کی قیادت میں سرگرم رہی ہے. آج بابری مسجد انہدام معاملے کا فیصلہ آنے پر *ساتھی مستقیم ڈگنیٹی* نے فوری طور پر جنتادل ورکرس کو پارٹی آفِس پر بلا کر مشورہ کرنے کے بعد *ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر صاحب* کے مجسمے پر 4 افراد *ساتھی مستقیم ڈگنیٹی، محمد مسلم ڈھانڈھے پہلوان، عارف حسین پاپا، امجد پٹھان* نے *32 منٹ* تک دھرنا دیئے. دھرنے دیتے ہوئے *▪️ہم سانس نہیں لے سکتے. ▪️ہمیں انصاف چاہئے. ▪️کورٹ کا فیصلہ ہمارے گلے نہیں اُتر رہا ہے.  ▪️ دستور کون بچائے گا. ▪️ I Can Not Breath* جیسے نعروں کے ساتھ 32 ملزمان کو با عزت بری کیا گیا اِس لئے 32 منٹ تک دھرنا دیا گیا.
               *ساتھی مستقیم ڈگنیٹی* نے کہا کہ کورٹ کا فیصلہ ہمارے گلے نہیں اُتر رہا، ہمیں سانس لینے میں تکلیف ہورہی ہے اس لئے ہم ہندوستان کے سب سے بڑے ڈاکٹر بانی قانون ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے پاس اپنی تکلیف بتانے آئے. اس موقع پر جنتادل سیکولر کے ورکرس سمیت متحدہ محاذ کے کئی کارپوریٹرس بھی موجود تھے

*بابری مسجد بچاؤ کمیٹی مالیگاؤں*

ليست هناك تعليقات: