آصف جلیل سرکا فروغ ‏جعفری کو خراج عقیدت

وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکرِ حق ہے
زندگی کو جن چیزوں سے معنون کیا جاتا ہے، ان میں موت سرِ فہرست ہے۔ موت وہ احساس ہے جو زندگی کے زندگی ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اگر یہ احساس پیدا نہ ہو سکتا تو کون جانتا اور کیسے سمجھتا کہ زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے والے فروغ جعفری اب ہم میں نہیں۔ کوئی کیسے جانتا کہ جس کی ہم قدر نہ کر سکے وہ کیسی گُونا گوں خوبیاں لیے تہہِ خاک آسودہ ہو گیا۔ یہ احساس ایسا ظالم ہے کہ زندگی بھر اپنے آپ سے لڑتے جھگڑتے، جگہ بناتے، پیاروں پہ کوٹ کوٹ کر نثار ہوتے، اور خونِ جگر سے لالۂ دوستی کو سینچتے شخص کی خوبیاں زندگی بھر ابھرنے نہیں دیتا اور بعد اس نیند کے جو ایک دن ہم سب پہ ایسے طاری ہونے والی ہے جس کے بعد ہمیں ہماری برائیوں اور مستحسن اعمال کے تذکرے سے چنداں فرق نہ پڑے گا، اس نیند کے سوا ایسی کون سی شئے ہے جو بتلا سکے کہ فروغ جعفری صاحب کتنے بڑے گلیڈی ایٹر تھے۔ انھوں نے اس چیز کا مقابلہ کیا جسے عزیز بھی سب رکھتے ہیں مگر وہ ہر جائی، وہ زندگی کسی کی ہونے ہی نہیں پاتی۔۔۔
سوچتا ہوں کہ عالمِ روحانی سے اگر فروغ آج جھانک کر دیکھیں کہ ان کے اعزا و اقربا، ان کے یار دوست احباب کیسے ان کے تذکرے پڑھتے نڈھال ہوئے جاتے ہیں تو انھیں موت پہ شائد رشک آجائے.. 
فروغ جعفری اپنے آپ میں ایک عہد تھے۔ اتنی کم عمر میں ایسے ایسے علوم و محبت کا ذخائر ہونا کسی عام کیا خاص شخص کے بس کی بات بھی نہیں، مگر وہ کہ جن پہ اللہ کا ہاتھ رہے۔ 
وہ شخص شہزادے جیسا نظر ہی نہیں آتا تھا بلکہ وہ ظاہری و باطنی طور پہ شہزادہ ہی تھا۔ افسوس کہ دنیا اسے اس کی جگہ نہ دے سکی اور اب ان کی وہی دنیا اسی غم میں رطب اللسان ہوئے جا رہی ہے۔
ویسے تو مرحوم فروغ جعفری کے گہرے مراسم بڑے بھائی شفیق انجم سے تھے جن کا تذکرہ مرحوم اکثر کیا کرتے تھے،  مگر چھوٹے بھائی کی نسبت سے مجھ احقر کو بھی عزت و محبت سے نوازتے تھے،  ہر پندرہ بیس دِنوں میں خصوصاً اتوار کے روز صراط چوک پر ملاقات کے لئے خود تشریف لاتے تھے، ہمیشہ *سر* کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتے تھے۔۔ میرے اسکول کی سرگرمیوں ،ثقافتی پروگرامس،  و درس تدریس کے متعلق اکثر رائے مشورہ کے ساتھ رہبری کرتے تھے،  کہتے تھے میَں بھی آج ڈی ایڈ بی ایڈ وغیرہ ہوتا اور میرے دیگر دوستوں کی طرح پیشہ درس و تدریس سے منسلک ہوتا مگر میرے اندر کا ہیرو ہے نا وہ بہت ضِدّی ہے۔۔۔ ماضی کے گولڈن چانس کو سوچ کر کئی واقعات کا ذکر کرتے تھے۔۔۔ 
انتقال سے ایک ہفتہ قبل مالیگاؤں بس اسٹینڈ کے سامنے مرحوم فروغ جعفری سے دیڑھ دو  گھنٹے کی آخری مگر یادگار ملاقات رہی۔ میَں نے انہیں کبھی غصہ میں نہیں دیکھا، کبھی فون پر بات ہوتی اور انہیں محسوس ہوتا کہ مجھے کوئی مشکل درپیش ہے یا طبیعت ناساز ہے تو سنجیدہ ہوجاتے اور دیر تک پُرسشِ احوال کرتے رہتے۔۔ بس غم و افسوس اس بات کا ہے کہ تعلقات کو آخری حد تک نبھانے والے فروغ جعفری شفقت، عنایت، لحاظ، مروّت ،خلوص اور سب سے بڑھ کر صداقت جیسے اوصاف کو ساتھ لئے اچانک چل دیئے۔۔
    اس بلند افگن شخص نے ساری زندگی جد و جہد کی۔ ایک ایک پل تراش کر گزارا۔ ادب، فنون لطیفہ، تعلیم، سماج، سیاست، معاشرہ، غرض یہ کہ زندگی کا کون سا ایسا پہلو تھا کہ مرحوم جس کے عالم نہیں تھے۔ ان کی گفتگو کی سلسبیل ان کی موت سے ختم ہوئی، مگر ان کے چاہنے والوں کے قلوب میں جذب ہو کر کسی نئے انداز میں زرخیزی کا سبب ضرور بنے گی۔
    آہ، فروغ جعفری، آہ، ہم تم سے اب ملاقات کو اس یوم آفرینش تک مؤخر کرتے ہیں کہ جس دن ہمیں اس خواب سے جگایا جائے گا جسے ہم زندگی سمجھتے رہے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
از:آصف جلیل احمد، مالیگاؤں

ليست هناك تعليقات: