ووٹ دینا ہر شہری کا دستوری اور قانونی حق ہے۔ ووٹ دینا بیداری کی علامت ہے اور عوام اسی ووٹ سے دیہات کے سرپنچ سے لیکر ملک کا وزیر اعظم منتخب کرتی ہے۔مرکزی حکومت گزشتہ ایک دیڑھ سال سے پورے ملک میں NRC, CAA,NPR کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے کاغذات درست کررہے ہیں اور ووٹر لسٹ میں نام بڑھانے اور ووٹ دینے پر بھی زبردست بیداری پائی جا رہی ہے کیونکہ ووٹ دینا اور ووٹر لسٹ میں نام کا رہنا ہندوستانی شہریت کی علامت ہے چونکہ بابری مسجد اور بھومی پوجن پر کانگریس پارٹی کے منافقانہ کردار کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس سلگتے ہوئے موضوع پر لوگوں کا دھیان بھٹکانے اور جواب دہی سے بچنے کے لئے سابق آمدار شیخ آصف نے میر جعفر کا کردار ادا کرتے ہوئے بوگس ووٹ کا شوشہ چھوڑ دیا جس کی وجہ سے پورا شہر شک کے گھیرے میں آگیا ہے اور سابق آمدار نے فرقہ پرستوں کو مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقع دے دیا ہے سابق آمدار کی اس گری ہوئی حرکت سے پورے شہر میں تشویش کا ماحول ہےاور لوگوں میں ووٹ کٹنے پر شہریت چھن جانے کا خوف طاری ہوگیاہے۔ آسام کے حالات سے ملک کا سیکولر طبقہ تشویش میں مبتلا ہے ۔ جبکہ ووٹر لسٹ کو آسام میں بنیادی شہری ثبوت مانا گیا ہے اور ایسے وقت میں فرقہ پرستوں کو خوش کرنے والا بیان دیکر پورے شہر کو مشکوک کرنا کونسی عقلمندی ہے جبکہ شہریان کو پتہ ہے کہ بوگس ووٹ کرنا یا کروانا، پولنگ بوتھ پر دھاندلی و غنڈہ گردی کرنا کس پارٹی کا شیوا رہا ہے ۔
آج اس مدعے پر مہا گٹھ بندھن آگھاڑی کے ایک وفد نے رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی صاحب کی قیادت میں پرانت آفیسر و الیکشن آفیسر سے ملاقات کرتے ہوئے آٹھ سوالات کے تحریری جواب طلب کیے تاکہ شہریان کو حقیقی صورتحال سے واقف کرایا جائے ۔
آج وفد میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی صاحب کے علاوہ کارپوریٹر محمد مستقیم ڈگنیٹی ، کارپوریٹر ساجد رشید، سلیم گڑبڑ، مولانا علیم الدین فلاحی و دیگر ذمہ داران موجود تھے
منجانب : مہا گٹھ بندھن آگھاڑی و مجلس اتحاد المسلمین
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق