سنیوں کے تعزیہ کے تربت درگاہ معصوم شاہ کٹی میں رکھے گئے!

پریس نوٹ بغرض اشاعت 


سنی تعزیہ کمیٹی کے سکریٹری جاوید انور نے بتایا کہ سنی امام باڑے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے جو سنی حضرات اپنے تعزیہ محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ قبرستان میں دیتے تھے، وہ تعزیہ کی تربت کو بہرحال لے جا کر گرنا ندی کے کربلا (حسینی ساگر) میں دفن کرتے تھے. مگر اس سال پولیس نے تربت دفن کرنے کے لئے بھی بھیکن شاہ درگاہ تک جانے کی اجازت نہیں دی، اور شیعہ قبرستان میں تربت دفن کرنے کو کہا، جو کہ اہلسنّت کے عقیدے کے خلاف ہے. اس لئے سنی تعزیہ داروں نے اپنے تعزیہ کی تربت کو درگاہ حضرت معصوم شاہ کٹی میں لے جا کر وہاں کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا، تاکہ وہ لوگ ایک دو روز کے بعدیہ سارے تربت ایک ساتھ لے جا کر بھیکن شاہ درگاہ کے پاس کربلا میں پورے اہتمام کے ساتھ دفن کر دیں گے. تعزیہ داروں نے اپنے اپنے طور جا کر تربت معصوم شاہ کٹی میں رکھے، جبکہ سنی تعزیہ کمیٹی کے ذمہ داران نے ایک ساتھ لے جا کر اپنی اپنی تعزیہ کی تربت درگاہ معصوم شاہ کٹی کے ذمہ داران محترم صوفی جمیل ٹیلر ناظم صاحب، اکبر سیٹھ اشرفی، حافظ اسماعیل اشرفی اور حافظ ساجد اشرفی کے سپرد کئے. اس موقع پر سنی تعزیہ کمیٹی کے صدر ریاض احمد عطر والے، سکریٹری جاوید انور، خازن عبدالودود سالکی اشرفی، محمد رمضان محمد عباس، سلیم گڑبڑ، امتیاز راشن والے، سہیل احمد، حافظ محمد جاوید نوری، شیخ مبین اشرفی، صدام احمد، عابد اشرفی وائر مین، عثمان غنی، محمد عاقب، خالد احمد، سمیت درجنوں لوگ حاضر تھے. ایسی پریس نوٹ بغرض اشاعت سنی تعزیہ کمیٹی کی جانب سے موصول ہوئی ہے.

کوئی تبصرے نہیں: