آج کی رپورٹ تعزیہ کے تعلق سے
روایتی شان قائم رکھنے کیلئے سنی تعزیہ کمیٹی نے کام کیا، نام کوئی بھی چھپوائے
کورونا بیماری کے چلتے لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزشتہ پانچ مہینے میں جو تہوار اور مواقع آئے، سب پابندی کی نذر ہو گئے. عرس، اجتماع، وعظ کے پروگرام تو دور، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز کی بھی اجازت نہیں دی گئی. اس لئے محرم الحرام کی رسومات اور تعزیہ داری کی اجازت مل سکے گی یا نہیں؟ اس تعلق سے تعزیہ داروں کے علاوہ عام مسلمان بھی فکر اور تشویش میں مبتلا تھے. ایسے وقت میں دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ سنی تعزیہ کمیٹی کے نے بھی مہاراشٹر حکومت تک اپنی بات پہنچائی. جس کی وجہ سے حکومت نے اپنی گائیڈ لائن میں واضح طور پر تعزیہ رکھنے کی اجازت دے دی. اب مسئلہ یہ تھا کہ بیماری نا پھیلے، اس کی روک تھام کے لئے تعزیہ کے پاس بھیڑ بھاڑ کو روکنے کے لئےمناسب احتیاط اور انتظام کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے رسومات ادا کی جائے. سب سے بڑا مسئلہ تعزیہ کو لے کر جانے کا تھا. کیونکہ اس کی اجازت سرکار نے نہیں دی.
سنی تعزیہ کمیٹی نے اپنی حکمت عملی کے تحت بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے سرکاری انتظامیہ، محکمہ پولیس اور میونسپل کارپوریشن سے ہر ممکن سہولیات اور چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کی، اور مناسب انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا.اور اللہ نے سنی تعزیہ کمیٹی کے ارکان کی زبان میں وہ اثر دیا کہ ہر جگہ ہماری بات سنی بھی گئی اور مانی بھی گئی.اور آج محرم الحرام کی تمام تقریبات خصوصاً تعزیہ داری کی تمام رسومات قانون کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے پوری احتیاط کے ساتھ پر امن طریقے سے اور اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ انجام دی گئی.اور آخری مرحلہ تعزیہ کو کربلا یا امام باڑے تک لے جانے کا بھی کارپوریشن کے تعاون سے مکمل کیا گیا.اس طرح سنی تعزیہ کمیٹی نے ہر جگہ مناسب نمائندگی کرتے ہوئے جس طرح کی سہولیات اور انتظامات فراہم کروائے، اس کے لئے تعزیہ داروں کے ساتھ ساتھ شہر کے ہر مکتبہ فکر کے مسلمانوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے.
درمیان میں کچھ ایسے لوگ بھی منظر عام پر آئے، جو سال بھر کہیں نظر نہیں آتے. اور سنی تعزیہ کمیٹی کے بر خلاف خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کی. اس کے لئے کچھ اخبارات میں ایسے بیانات دیئے، مانو گاڑی انہیں لوگوں نے کھینچی ہے. جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حرکتوں سے صرف مشکلیں بڑھائیں تھی. گنپتی وسرجن کے لئے جس طرح تیرہ جگہوں پر پوائنٹ بنا کر گاڑیوں کا انتظام کارپوریشن نے کیا، اسی طرح کا کوئی انتظام تعزیہ کے لئے کرنے کا مطالبہ جب سنی تعزیہ کمیٹی نے پولس کنٹرول روم کی میٹنگ میں کیا، تو وہ لوگ مخالفت میں خوب چینخ وپکار کر رہے تھے، مگر سنی تعزیہ کمیٹی کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے عملی کاروائی شروع ہوئی تو اخبارات میں ایسے بیان شائع کروائے گئے کہ سب ان کا ہی کارنامہ ہے. جبکہ شہریان بخوبی جانتے ہیں کہ کون کام کرتا رہتا ہے، اور کون کام کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے.
بہر حال! اراکین سنی تعزیہ کمیٹی اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں، کہ سب کچھ اطمینان کے ساتھ اختتام پذیر ہوا. اسی طرح تمام سرکاری آفیسران، کارپوریشن محکمہ اور خصوصی طور پر پولیس محکمہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ پولس ڈپارٹمنٹ نے شہر کے امن کے لئے اپنے ڈیوٹی سے محنت بھی کی اور تعاون کیا. ہم شہر کی عوام کے بھی شکر گزار ہیں کہ عوام کے تعاون کے بغیر تو یہ ممکن ہی نہیں تھا.
ریاض احمد عطر والے(صدر سنی تعزیہ کمیٹی )، جاوید انور(سکریٹری) اور تمام عہدے دار و اراکین سنی تعزیہ کمیٹی، مالیگاؤں کی جانب سے تمام ہی لوگوں کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے. ایسی پریس نوٹ بغرض اشاعت سنّی تعزیہ کمیٹی کی جانب سے موصول ہوئی ہے.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں