بھیونڈی ۲۸؍ اگست (نامہ نگار )کورونا مہاماری کے چار ماہ لوگوں کا کاروبار بند تھا۔ پاورلوم مالکان میں سے بیشتر نے کئی ماہ مزدوروں کو اس آس پر بیٹھائے رکھا اور اپنے جیب سے ان کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کا انتظام کیا کہ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد مزدور کام پر رجوع ہو جائیں گے اور کاروبار دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کچھ پولس کی زیادتیاں ، کورونا سے اموات کا بہت زیادہ ڈر اور دیگر دشواریوں کے سبب مزدور پیدل ہی اپنے وطن کے لئے روانہ ہو گئے۔ایسے میں انھیں کوئی وعدہ اور کوئی لالچ روک نہیں پائی ۔لاک ڈاؤن کے بعد اب کارخانے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں اور پاورلوم مزدور واپس آنے کی فکر میں ہیں لیکن ریل گاڑیوں کا نظام اپنی پرانی روش پر شروع نہیں ہوا ہے۔پاورلوم بنکر جو مزدوری پر کپڑا تیار کرتے تھے اور جن کے کارخانے بھی کرائیے پر تھے ان کا بہت برا حال ہے۔
ایک جانب ٹورینٹ کا لاک ڈاؤن پریڈ کا گھروں کا بجلی بل کافی بڑھ کر آیا ہوا ہے تو دوسری جانب چار ماہ تک کارخانے بند رہنے کے سبب پاورلوم بنکر جو جاب ورکر ہیں ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کو چاہئے کہ پاورلوم بنکروں کی خبر گیری کرے ۔انھیں ورکنگ کیپٹل کی شکل میں طویل مدتی غیر سودی قرض دیا جائے تاکہ وہ خود کا کاروبار کر سکیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں ۔
دوسرےلاک ڈاؤن اور اس کے بعد کے کم ازکم چھ ماہ کے بجلی بل میں مزید سبسڈی دی جائے تاکہ کاروبار میں انھیں جو نقصان کا سامنا ہوا ہے اور آگے کرناپڑ رہا ہے۔ اس کی بھرپائی ہو سکے۔ مرکزی حکومت نے ۲۰؍ لاکھ کروڑ روپیئے کی راحت کاری کا جو اعلان کیا ہے ۔ ایم ایس ایم ای(منسٹری آف مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزس)میں پاورلوم صنعت جو ایک گھریلو صنعت ہے۔ اسے شامل کر کے اس صنعت کو بھی ہینڈ لوم صنعت کی طرح سرکاری سرپرستی دی جائے۔
ایک وقت تھا جب پاورلوم صنعت اپنے شباب پر تھی۔ تب بنکروں کو سرکاری امداد کی ضرورت نہیں تھی۔ آکٹرائے اور اکسائز ٹیکس کے روپ میں یہ صنعت حکومتوں کو کروڑ ہا کروڑ روپئے ہر ماہ ٹیکس ادا کرتی تھی آج جب یہ صنعت بحران کا شکار ہے تو اس کا کوئی پرسان حال نہیں یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق