سینکڑوں قیمتی جان گنوانے کے باوجود کیا مالیگاؤں سینٹرل میں مَلٹی اسپیشلٹی ہاسپٹل نہیں بنایا جائے گا محمد عارف نوری

*


سینکڑوں قیمتی جان گنوانے کے باوجود کیا مالیگاؤں سینٹرل میں مَلٹی اسپیشلٹی ہاسپٹل نہیں بنایا جائے گا ؟؟*
*محمد عارف نوری*



*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)*

(پریس ریلیز) پچھلے دنوں کرونا مہماری کے دوران مالیگاؤں شہر میں پرائیویٹ ہاسپٹل بند تھے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرس، اسٹاف، طبّی سہولیات کا فقدان تھا ہیلتھ ڈپارٹمنٹ و کارپوریشن غفلت کا شکار تھے شہر میں افرا تفری، خوف و دہشت کا ماحول تھا ایسے وقت میں شوگر، کِڈنی، ہارٹ، ڈائلیسیس، بلڈ پریشر و دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض علاج کے لیے دَر بَدر بَھٹک رہے تھے اُسی دوران ہمارے پارلیمنٹ حلقے کے ایم پی اور ناسک، دھولیہ شہر نے ہمارے مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا حتیٰ کہ مالیگاؤں کارپوریشن کے چند کرمچاری و ادھیکاریوں نے بھی مسلم علاقوں میں ڈیوٹی کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے خلاف حفاظت گروپ مالیگاؤں کے ذمہ داران نے آواز بلند کی تھی اور کمشنر صاحب کو سخت انتباہ کے ساتھ کاروائی کا مطالبہ کیا تھا اور کمشنر صاحب نے اُن پر کاروائی بھی تھی لاک ڈاؤن کے دوران وزیرِ صحت دو مرتبہ مالیگاؤں شہر کا دورہ کرتے ہوئے شہر کے حالات کا جائزہ بھی لیا تھا جن کی آمد پر دونوں آجی، ماجی لڑ رہے تھے مالیگاؤں شہر آؤٹر میں برسرِ اقتدار پارٹی کے منتری بھی موجود ہیں اس کے باوجود بھی مالیگاؤں شہر کی عوام مدد کے لئے پُکارتی رہی وقت پر مناسب علاج نا ملنے کی وجہ سے مالیگاؤں شہر نے سینکڑوں قیمتی جانیں گنوائی جن میں شہر کی مشہور و معروف دینی، سیاسی، سماجی شخصیت بھی موجود تھی۔
کیا اُن کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا انھیں انصاف نہیں ملے گا؟ جس شہر کے لوگوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا گیا تھا اُسی شہرِ مالیگاؤں نے لوگوں کا بڑھ کر علاج کیا مالیگاؤں شہر کے لوگوں نے انسانیت کا ثبوت دیا اور بِلا تفریق مذہب تمام لوگوں کے لئے اپنے سینوں کو کشادہ کرتے ہوئے سب کو خوش آمدید کہا بلکہ ہمارے شہر کے ڈاکٹرس، سوشل ورکرس،سماجی تنظیموں وغیرہ نے ناسک، بھیونڈی و دیگر شہروں میں جاکر اپنی خدمات انجام دیں رہے ہیں مالیگاؤں شہر سے دوسرے شہروں میں امداد و ریلیف پہنچائی جارہی ہے ہندو مسلم ایکتا بھائی چارے کی مثال قائم کی گئی منصورہ کے کاڑھے کا ہر جانب چرچا ہے مالیگاؤں پیٹرن کی پورے ملک میں دھوم مچی ہے چند دنوں قبل مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ نے صرف ندی کے اس پار کا دورہ کیا جس سے ان کی ذہنیت صاف سمجھ میں آتی ہے ۔
کیا اتنی ساری قربانیاں اور جان گنوانے کے بعد بھی سرکار کی جانب سے مالیگاؤں سینٹرل حلقے میں ایک مَلٹی اسپیشلٹی ہاسپٹل نہیں بنایا جائے گا؟
افسوس شہر کی قیادت پر بھی ہے کہ اتنی تکالیف، دشواریوں، قربانیوں، جانوں کو گنوانے کے کے باوجود اب تک شہر کے لیے کچھ نہیں کرسکے یقیناً ایسے وقت میں مرحوم ساتھی نہال احمد صاحب جیسے دور اندیش لیڈر کی کمی محسوس ہوتی ہے

ليست هناك تعليقات: