*دوسرے شہروں میں قربانی کو لیکر زبردست تکلیف اور مالیگاؤں میں بلا خوف و خطر آزادانہ قربانی* *مجلس رکن اسمبلی قائد و سالار مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب کی کامیاب حکمت عملی کا ثمرہ*




ماہ *ذی الحجہ* میں  عالم اسلام کا دوسرا سب سے بڑا تہوار *عیدالاضحی* منایا جاتا ہے۔ اسی مہینے میں اسلام کے پانچویں اہم رکن *حج* کی ادائیگی بھی ہوتی ہے *حج* کرنا ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے اور صاحب حیثیت مسلمان حج بھی کرتے ہیں لیکن اس سال کورونا وباء کی وجہ سے محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی ہوئی۔ حج کے بعد  *سنت ابراہیمی* کی تکمیل کیلئے صاحب حیثیت مسلمان قربانی کرتے ہیں۔ 

اس سال کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کا آڑ لیکر قربانی میں تکلیف پیدا کی گئی مہاراشٹر گجرات سرحد پر قربانی کے جانوروں کی گاڑیوں کو مہاراشٹر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا جس سے جانور کے بیوپاریوں کا کروڑوں کا نقصان ہوا اور ذہنی تکلیف ہوئی وہ الگ ، حکومت میں شامل مسلم ایم ایل ایز اور وزراء بھی مکمل طور پر ناکام ہوئے جس کا اعتراف کانگریس کے ایم ایل اے ذیشان صدیقی نے کیا اور انہوں نے عوام سے معافی بھی مانگی وہیں  ابوعاصم اعظمی نے بھی ناکامی کا اعتراف کیا۔ حکومت میں شامل مسلم ایم ایل ایز اور وزراء کی ناکامی اور منصوبہ بندی کے فقدان  کی وجہ سے ممبئی،  بھیونڈی، اورنگ آباد، جلگاؤں، احمد نگر اور ممبرا سمیت مہاراشٹر کے کئی شہروں میں اہل ایمان قربانی سے محروم رہ گئے اور قربانی کے جانوروں کو ضبط کرکے  مقدمات درج کئے گئے اس کے برعکس مالیگاؤں میں رکن اسمبلی *قائد و سالار مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب* کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت لوگوں نے عیدالاضحی کی نماز نہایت سکون سے ادا کی ، مالیگاؤں کے اطراف کے اضلاع کی سرحد سیل ہونے کے باوجود مالیگاؤں میں جانوروں کی گاڑیاں پکڑ دھکڑ سے محفوظ رہی ، جانور کے بیوپاریوں نے اطمینان کے ساتھ اپنا کاروبار کیا اور لوگوں نے بلا خوف و خطر آزادانہ طور پر قربانی کی۔ لوگوں نے *مفتی صاحب* کی کوششوں کو سراہا اور  یہ بھی سنا گیا کہ اس سال لاک ڈاؤن میں جتنی آزادی اور سکون سے قربانی ہوئی اس سے پہلے نہیں ہوئی اور یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ ہر وقت رونے دھونے والے اور *مفتی صاحب* پر ناکامی کا الزام لگانے والے سابق آمدار کیا مخلوط حکومت کے مسلم ایم ایل ایز اور وزراء کی ناکامی پر ناراضگی جتائیں گے  یا پھر اپنے سیاسی آقاؤں کے عتاب کے ڈر سے *خاموش* رہیں گے ؟؟؟


*منجانب:- قائد و سالار گروپ*

ليست هناك تعليقات: