صوفی غلام رسول قادری علیہ الرحمہ کی مرگِ ناگہانی پر اک تعزیتی نظم

آہ صوفی غلام رسول قا دری
از : محمد حسین مشاہد رضوی
حسبِ فرمائش : برادرِ اصغر محمد اسماعیل رضا برکاتی
خوشی کا معاملہ ہو یا کہ رنج و غم کا طوفاں ہو
شہر حیران ہو یا کہ ہو مشکل میں گِھرا سارا. .... 
مسائل ہوں بپا ہر سو ، ہو زلفِ شہر پیچیدہ ...... 
وہ مرہم لے کر ہر جا ہم کو آتا تھا نظر اکثر...... 
وہ قبرستان میں ہو بم دھماکے کا لرزتا پل.... 
وہ محروسین کی آزادی کی ہوں یا کاوشِ پیہم..... 
وہ چاہے ہوں کسی گھر کے مسائل یا کوئی تلخی ...... 
بڑی تدبیر سے ان سب کو حل کرتے ہوئے لوگو  ........ 
وہ مرہم لے کے ہر جا ہم کو آتا تھا نظر اکثر ....... 
وہ جس کو صوفیِ ملت لقب سے یاد کرتے تھے ...... 
رسول اللہ کی جس کو غلامی خوب حاصل تھی....... 
محبِ اہلِ بیتِ پاک، وہ شیدا صحابہ کا ....... 
غلامِ غوث اعظم ، خواجہ و صابر کا دیوانہ ......... 
جسے مخدوم اشرف ، اعلیٰ حضرت سے رہی الفت. ...... 
ضرورت تھی ابھی اُس کی یقینًا قومِ مسلم کو ....... 
مگر منظور تھا رب کو چلا وہ دارِ فانی سے....... 
مگر سچ ہے کہ اس کی یاد اکثر ہم کو آئے گی....... 
بہت ساروں کو ممکن خون کے آنسو  رلائے گی ......... 
خداوندا طفیلِ سید عالم کرم کرنا........ 
خطائیں در گزر کرنا تُو رحمت کی نظر کرنا ....... 
مُشاہد کی دعا ہے اس پہ فضلِ خاص فرمانا....... 
شہر کو اس کے جیسا پھر سے کوئی راہ بر دینا.....

کوئی تبصرے نہیں: