وطن کی آزادی کی 74 ویں سالگرہ پر ادارۂ اکمل آفس پر ترنگا لہرایا گیا


ہمارا ملک ہندوستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔ اس آزادی کو انگریزوں نے سونے کی طشتری میں سجا کر پیش نہیں کیا بلکہ لاکھوں مسلمانان و علماء کرام ہنستے کھیلتے اپنی جانوں کو قربان کردیا تب کہیں جاکر ہم کو آزادی میسر آئی مگر افسوس۔۔۔ اس آزادی کو پھر آج آزادی کی ضرورت ہے۔ اس وقت ہم غلام تھے انگریزوں کی سازش کے اور آج غلام ہیں فرقہ پرستوں کی سازش کے۔ اس طرح کے جملوں کا اظہار صدر انصاری جاوید اکمل صاحب نے ادارۂ اکمل آفس پر یوم آزادی کے موقع پر صبح آٹھ بجے پرچم کشائی کی رسم کی ادائیگی میں کیا۔ 
وارڈ نمبر دو کے ہر دل عزیز معاون کارپوریٹر عبدالجبار صاحب کے ہاتھوں ہونے والی پرچم کشائی کی رسم میں مہمانان کرام میں ڈاکٹر خالد نسیم صاحب، لیڈی ڈاکٹر انصاری نزہت پروین صاحبہ، عبدالماجد سر (بائیو کیئر لیب)، شفیق آرگن، شوال حسین، محمد اویس، یاسین احمد (پاپے) ، شفیق احمد، جمیل بھائی، رجب علی، اکرام حسین، اشتیاق احمد (پہلوان)، شیخ علیم، شیخ رضوان اور ادارۂ اکمل کی پوری ٹیم،  ادارۂ شہیدان وطن کے تمام اراکین اور آدرش مہیلا آروگیہ سمیتی کی تمام خواتین و محلے کے سرکردہ افراد و بچے حاضر تھے۔ آخر میں ادارۂ اکمل کی ہی جانب سے تمام حاضرین و بچوں کو جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ امتیاز حفیظ صاحب کے ہاتھوں گولیاں تقسیم کی گئیں اور تمام ہی لوگوں کو یوم آزادی کی مبارک باد دی گئی۔ 
ش۔ن۔ا۔

ليست هناك تعليقات: