جنتادل سیکولر کا احتجاجی وفد ایڈیشنل کلکٹر سے ملا300 یونٹ سے کم بجلی یونٹ استعمال کرنے والوں کا بل معاف کیا جائے


مالیگاؤں 10 اگست بروز پیر : کرونا وائرس کے سبب ملک بھر میں گذشتہ کئی مہینوں سے لاک ڈاؤن چالو ہے، لاک ڈاؤن کے شروعاتی ایام میں ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے کاروبار بند ہونے سے عام شہری مالی حالت سے کافی پریشانی میں مبتلا تھے. اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جنتادل سیکولر کے  ریاستی ذمہ داران کے اعلان کے مطابق 13 جولائی 2020 کو ریاست بھر میں 3 مہینہ کی بجلی بل معافی کو لے کر احتجاج درج کروائے اور اُسی دن آگرہ روڈ پاور ہاؤس کے باہر مقامی جنتادل کے ورکرس و ذمہ داران نے بجلی بل کو نذر (ہولی جلائے) کئے تھے. ریاستی جنتادل کے ذمہ داران نے جب یہ محسوس کیا کہ ریاستی حکومت بجلی بل معاف کرنے کے مطالبے کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے تو جنتادل سیکولر ریاستی ذمہ داران نے ریاست بھر میں 10 اگست بروز پیر کو تحصیلدار، پرانت، ایڈیشنل کلکٹر، کلکٹر صاحبان کی آفِس کے باہر دھرنے و اپنے انداز میں احتجاج درج کرنے کا اعلان کئے. اسی مناسبت سے مقامی جنتادل سیکولر ذمہ داران و ورکرس *آج 10 اگست کو دوپہر 4 بجے نہالی انداز میں کالے کپڑے پر بجلی بل لگا کر احتجاجی وفد کی شکل ایڈیشنل کلکٹر صاحب سے ملے* اور ریاستی جنتادل سیکولر کی جانب سے 3 مہینہ بجلی بل کی معافی کا مطالبہ رکھا. آج کے احتجاجی وفد میں ساتھی مستقیم ڈگنیٹی صاحب، محمد مسلم ڈھانڈھے پہلوان، سلیم گڑبڑ، عبدالباقی راشن والا، معاون کارپوریٹر سید سلیم، عبدالرحمٰن انصاری، ہارون ماسٹر، صدرالدین مقادم، ابولیث انصاری، شاہد بابو ٹیلر، سُدھیر ساڑُنکے موجود تھے.
          سرکار عوام کی فلاح کے لئے بنائی جاتی ہے اور ایسے سنگین حالات میں جب سرکار عوام کو راحت پہنچانے کا کام نہیں کرتی ہے تو اس سرکار کے خلاف ریاستی جنتادل سیکولر کے ذمہ داران بڑی تحریک کا اعلان کرے گے اور مقامی جنتادل کے ورکرس ذمہ داران سرکار پر دباؤ بنانے کیلئے پارٹی کی ہر تحریک میں شامل رہے گی.

ليست هناك تعليقات: