_سوال نمبر1"پوچھتا ہے مالیگاؤں" کب بنے گی بھنگار بازار روڈ ‏



 ابو اسامہ اعظمی ترجمان، مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ 
مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے شہری مسائل کو حل کرنے کیلئے سلسلہ وار سوالات پوچھے جائیں گے اور ساتھ ہی عوام کے سامنے اس کی حقیقت اجاگر کی جائے گی.  نیز نامکمل کاموں اور مسائل کو حل کرنے کیلئے جدوجہد بھی کی جائے گی.

مالیگاؤں کارپوریشن کی عمارت کے سامنے تاریخی قلعے کے اندر جاری کاکانی اسکول کی جب چھٹی ہوتی تھی تو رام سیتو پُل پر بچوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہمیشہ ٹریفک نظام درہم برہم رہا کرتا تھا جس سے ہمیشہ یہاں پر حادثہ ہونے اور بچوں کی جان جانے کا خطرہ تھا اس بات کو ندی کے اس پار کے لیڈران نے محسوس کیا ۔ اور  اپنی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے ان کے لئے لوکھنڈ بازار سے ایک پیدل پل بنوا دیا تا کہ ان بچوں کی زندگیوں کو حادثات سے محفوظ بنایا جا سکے ۔ ایسا اس لئے ہوا کہ وہ تعلیم اور طلباء کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ۔

اسکے بر عکس ہمارے شہر کی مشہور و معروف شاہراہ امام احمد رضا المعروف بھنگار بازار جس پر اے ٹی ٹی ہائی اسکول، جے اے ٹی ہائی اسکول، پیراڈائز اسکول، مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اسکول نمبر14 جیسی بڑی اسکولیں ہیں جہاں پر صبح و دوپہر دونوں شفٹ ملا کر تقریباً پچاس ہزار بچے روزآنہ آتے جاتے ہیں

 ہزاروں شہریان کا بھی دن بھر اس روڈ سے گزر ہوتا ہے،یہ بچے بھنگار روڈ، آگرہ روڈ، قدوائی روڈ پر بے تحاشہ اتی کرمن خستہ حال سڑک پر بار بار ٹرافک جام میں سر پر کفن باندھ کر جان ہتھیلی پر لے کر آتے جاتے ہیں جبکہ اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں کئی بچے حادثے کا شکار بھی ہو چکے ہیں

 مگر بے حس عوامی نمائندوں اور لیڈران کو پیسے کمانے سے فرصت ہی نہیں۔ انھیں تعلیم و تعلم کی اہمیت کا احساس ہی نہیں ۔کیا ہمارے بچوں کی جان پیاری نہیں ہے کب بنے گی امام احمد رضا روڈ (بھنگار بازار روڈ) یہ مسائل کب حل ہونگے........ پوچھتا ہے مالیگاؤں..... ؟

*فقط : صدر و اراکین ایم ڈی ایف (مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ )*

کوئی تبصرے نہیں: