حسینی ساگر (کربلا) اور سنی تعزیہ گھر بھیکن شاہ درگاہ کے پاس ہی رہے گا ! سنی تعزیہ کمیٹی
آنے والے دو تین دنوں میں محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی مالیگاؤں شہر میں تعزیہ داری کی رسومات کا آغاز ہو جائے گا. اس درمیان کچھ لوگوں کی طرف سے مسلسل سنی تعزیہ کمیٹی کے لوگوں کے خلاف سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور اخبارات میں بیان بازی کر کے تعزیہ داروں میں فکر و تشویش اور ڈر کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، اسی لئے سنی تعزیہ کمیٹی کے صدر ریاض احمد قادری عطر والے،جنرل سکریٹری جاوید انور اور دیگر اراکین نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے صاف اور واضح اعلان کیا ہے کہ تعزیہ دفن کرنے کے لئے حسینی ساگر (کربلا) اور تعزیہ محفوظ رکھنے کے لئے سنی امام باڑہ یعنی کہ تعزیہ گھر ہر حال میں گرنا ندی بھیکن شاہ درگاہ کے پاس ہی رہے گا. ہم اسکے بدلے کوئی اور جگہ ہرگز منظور نہیں کریں گے.
لگ بھگ سو سال سے بھیکن شاہ درگاہ کے پاس گرنا ندی کے کنارے تعزیہ دفن کرنے کا رواج ہے، اور یہاں پر راجہ بہادر نے تقریباً سوا دو ایکڑ زمین اس وقت کی برو میونسپلٹی، یعنی آج کی کارپوریشن کو دی تھی، جس میں سے لک بھگ سوا ایکڑ زمین پر مردے جلانے کے لئے شمشان گھاٹ بنایا گیا، اور لگ بھگ ایک ایکڑ زمین خالی پڑی تھی، جہاں محرم کی گیارہ تاریخ کو تعزیہ کھڑے رکھے جاتے تھے. اسی لئے سنی تعزیہ کمیٹی نے آج سے پانچ سال پہلے کارپوریشن سے مطالبہ کیا تھا کہ اس ایک ایکڑ زمین میں سے کچھ زمین پر ایک پختہ شیڈ تعمیر کر کے "سنی امام باڑہ" کے نام سے دیا جائے، تاکہ سنی تعزیہ دار اپنے تعزیہ وہاں محفوظ رکھ سکیں، اور بقیہ زمین تعزیہ کو دفن کرنے کے لئے ڈیولپ کرکے دیا جائے اور اس حصے کو حسینی ساگر کربلا کا نام دیا جائے. اسی زمین سے لگ کر مہربان ضلع کلکٹر صاحب کے نام پر ایک سرکاری زمین بھی ہے، جہاں محرم کی گیارہ تاریخ کو میلہ لگتا ہے، اس زمین کو بھی حسینی ساگر کے لئے دینے کا مطالبہ سنی تعزیہ کمیٹی نے کیا تھا، جس کے تحت کلکٹر آفس کی جانب سے کاروائی جاری ہے.
سنی تعزیہ کمیٹی کی کوشش اور گزارش پر چار سال پہلے کارپوریشن کی جنرل میٹنگ "مہا سبھا" میں میئر شیخ رشید صاحب کی تجویز پر متحدہ محاز کے کٹ نیتا مرحوم بلند اقبال صاحب، ایم آئی ایم کے ڈاکٹر خالد پرویز صاحب، شیو سینا، بی جے پی سمیت تمام پارٹیوں کے کارپوریٹروں نے ایک رائے سے عنوان نمبر ١٩٣/ کے تحت ٹھہراؤ منظور کیا تھا، کاغذی اور قانونی کارروائی کے بعد سن 2018-2019 کے کارپوریشن بجٹ میں اس کام میں لگنے والے خرچ کے لئے چالیس لاکھ روپیہ کی رقم رکھی گئی. مگر کچھ شر پسند لوگوں کے گمراہ کرنے کی وجہ سے کارپوریش کے آفیسران وہاں تعزیہ رکھنے کا شیڈ اور تعزیہ دفن کرنے کی جگہ بنانے کی بجائے گنپتی وسرجن کے جیسا تعزیہ کنڈ بنانے کی بات کرنے لگے.بڑی مشکل سے اس معاملے کو حل کیا گیا، تب تک مالیاتی سال ختم ہو چکا تھا، تب سنی تعزیہ کمیٹی نے پھر سے کوشش کرتے ہوئے سن 2020-2021 کے بجٹ میں پھر سے چالیس لاکھ روپیہ کی رقم منظور کروائی. کارپوریش کے غیر مسلم آفیسران اس کام میں مسلسل ٹال مٹول کا رویہ اپنایا تو دوسری طرف کچھ زمین مافیاؤں نے وہاں کی زمین ہی غالب کر دی. اور اب وہاں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ کارپوریشن کے آفیسران اس جگہ کو تلاش کر رہے ہیں، اس لئے سنی تعزیہ کمیٹی نے مسلسل تیسرے سال بھی یعنی سن 2021-2022کے بجٹ میں بھی تعزیہ گھر اور حسینی ساگر کے لئے چالیس لاکھ روپیہ کی رقم منظور کروا لی ہے. اور ہم سنی تعزیہ کمیٹی کے اراکین نے کارپوریشن کے آفیسران کو سخت وارننگ دی ہے کہ زمین ڈھونڈھ کر وہاں تعزیہ گھر اور حسینی ساگر کا کام شروع نہیں کیا گیا، تو ہم لوگ ہائی کورٹ جائیں گے، اور آفیسران کے خلاف ایف آئی آر دے کر فوجداری گناہ درج کروائیں گے.
لگ بھگ سو سال سے بھیکن شاہ درگاہ کے پاس ہی کربلا ہے، وہاں راجہ بہادر کی دی ہوئی کارپوریش کی ملکیت کی ایک ایکڑ زمین ہے، بازو میں سرکاری زمین بھی ہے، جسے تعزیہ داروں کو دینے کا ضلع کلکٹر صاحب نے وعدہ بھی کیا ہے، اس کے باوجود کچھ لوگ یہ جگہ چھوڑ کر بار بار اس جگہ سے مزید چار کلو میٹر دور مالدہ کالونی میں جانے کی بات کیوں کر رہے ہیں، یہ سوچنے والی بات ہے. کہیں اس میں زمین مافیاؤں کی ملی بھگت اور سازش تو نہیں ہے؟ قانونی طور پر مالدہ کالونی میں تعزیہ گھر بن بھی نہیں سکتا، کیوں کہ مالدہ کالونی میں درگاہ کے لئے ریزرو زمین پر تعزیہ گھر بنانے کی بات بولی جارہی ہے، اگر مالدہ میں درگاہ کے لئے کوئی زمین موجود ہے تو کئی لوگ پچھلے سات آٹھ سال سے بسم اللہ شاہ اشرفی کی درگاہ کے لئے کوشش کر رہے ہیں، ان کو یہ زمین کیوں نہیں دی گئی؟
اسی طرح سنی تعزیہ کمیٹی نے یہ بھی خلاصہ کیا ہے کہ بلا وجہ جھوٹ پھیلا کر ایک عقیدے کے لوگوں کو سنی تعزیہ کمیٹی کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے، اس میں شاید یہی سازش ہے کہ محرم منانے والوں کو آپس میں لڑایا جائے، تاکہ حسینی ساگر اور تعزیہ گھر کی جدوجہد کرنے والے دوسری طرف الجھ کر کمزور پڑ جائیں.
سنی تعزیہ کمیٹی کے ذمہ داروں نے بتایا کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ تعزیہ بناتے اور رکھتے ہیں، کچھ لوگ تعزیہ کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ لوگ تعزیہ کی مخالفت کرتے ہیں، تعزیہ کی مخالفت کرنے والے لوگ تعزیہ داروں پر اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ تعزیہ دار عقیدت و محبت میں خود سے تعزیہ نہیں بناتے، بلکہ تعزیہ بنانے اور رکھنے کے لئے دوسرے عقیدے کے لوگوں سے پیسہ لیتے ہیں، اور اہل بیت کی محبت میں نہیں بلکہ پیسے کے لالچ میں تعزیہ داری کرتے ہیں سنی تعزیہ کمیٹی کے ذمہ داران ہمیشہ سے ایسے الزامات کے خلاف بیان دیتے آئے ہیں، اور ہمارا ماننا ہے کہ سنی تعزیہ دار حضرات اپنی عقیدت و محبت کے اظہار کے لئے اپنے خود کے پیسے سے تعزیہ بناتے اور رکھتے ہیں. لیکن اگر کسی کو دوسروں سے پیسہ ملتا ہو گا تو ان کا چہرہ سامنے آنا چاہئے، تاکہ جو کرتا ہے، وہ بھرے۔ سب لوگ بدنامی کیوں اٹھائیں؟
آخر میں سنی تعزیہ کمیٹی تمام تعزیہ داروں سے اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، اور سنی تعزیہ کمیٹی کے ساتھ اپنا تعاون برقرار رکھیں۔ شکریہ!
المرسلہ : جاوید انور، سکریٹری سنی تعزیہ کمیٹی، مالیگاؤں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں