‎غزل ‏شہروز ‏خاور

اگرچہ جبہ و دستار و تاج و تخت نہیں
رہ جنوں میں مگر کون ہے جو مست نہیں

خوشی بہار سے حاصل ، نہ غم خزاؤں کا
میں شاخ شاخ ہوں پھیلا مگر درخت نہیں

اسی بدن میں وہ دل بھی ہے جس میں دنیا ہے
بس ایک سانس ہی رکھنے کا بندوبست نہیں !

شکایتیں ہیں بہت تیرگی کے ماروں کو
مگر چراغ جلانے کی پیش رفت نہیں

کہاں کا نام و نسب رنگ و نسل قوم و قبیل
دیار عشق میں کوئی بلند پست نہیں

خیال یار سے نازک کوئی خیال کہاں
مزاج یار سے بڑھ کر کوئی بھی سخت نہیں

عجیب ہی تو ہے یہ فلسفۂ موت و حیات
کسی کو وقت نہیں ہے ، کسی کا وقت نہیں

تو کیا میں گھر نہیں جاؤں گا لوَٹ کر شہروز
تو کیا یہ ارض و سماوات بازگشت نہیں

شہروز خاور ـــــــــ

ليست هناك تعليقات: