رہنے کو سدا اس دہر میں کوئی آتا نہیں
جیسے تم گئے ویسے تو کوئی جاتانہیں
ایسا کہاں سے لائیں کہ
تجھ ساکہیں جسے
غریبوں کے ہمدرد و شہر مالیگاؤں کے خیرخواہ مرحوم الحاج محمد ابراہیم نیشنل والے کو اس دنیا سے رخصت ہوئے آج ایک سال کا عرصہ بیت گیا.
سال کے 365دن ہوتے ہیں اور تین سو پینسٹھ دنوں میں الحاج محمد ابراہیم نیشنل والے بہت یاد آئے.
شہر کی گلیوں سے لیکر شہر کے ہر مسائل ، عوامی، سماجی، سیاسی اسٹیج، کورٹ کچہری سرکاری، درباری دفتروں سے لیکر ہائی کورٹ، ملی، سماجی وصنعتی مسائل کی یکسوئی کے لئے الحاج محمد ابراہیم نیشنل والے صاحب نے اپنی زندگی کے شب وروز وقف کردئیے.
الحاج محمد ابراہیم نیشنل کی حیات ظاہرہ میں ہرکس وناکس،ہرخاص وعام کوکسی بھی مسئلے پراس قدرحیرانی وپریشانی مشکل سے ہی ہواکرتی،کیونکہ ہرکسی کویہ گمان رہتاکہ حاجی ابراہیم صاحب ہمارے ساتھ موجودہیں۔آپ کے مصنفانہ رویہ، حق گوئی اوربیباکی کاہرکوئی متعرف رہا۔بم بلاسٹ کے جھوٹے الزام میں قیدوبند کی صعوبتیں جھیلنے کا معاملہ یاپاورلوم صنعت سے جڑی سائزنگوں کے مسائل پر حکومت کے آفیسران ہویاکسی بھی پارٹی کے لیڈران ،آپ آنکھ میں آنکھ ڈال کر باتیں کیاکرتے۔کیونکہ آپ نے کبھی عہدہ وجاہ چشم کی خواہش نہیں کی۔
آپکو اللہ نے ضمنی الیکشن میں جیت دیکر مئیر بنایا جو کہ اتحاسی کارنامہ ہے. آپ شہر کے پہلے مئیر تھے جو صبح چھ بجے شہر کے صاف صفائی کامگاروں کی حاضری لینے نکل جاتے تھے.آپ نے اپنی ڈھائی سالہ مئیر کی معیاد میں جدوجہد کرکے حکومت سے امرت یوجنا اسکیم لائی جس سے مضافاتی علاقوں میں میٹھے پانی کی پائپ لائن بچھائی گئی اور ماؤں بہنوں کی تکالیف کو دور کیا جس سے مضافات کی عوام آج بھی آپکو دعائیں دیتی ہیں. اور ایسے کئی عوامی مفاد کے کام کئے کئے ہیں جس عوام آج بھی فائدہ اٹھا رہی ہے.
گزشتہ سال لاک ڈاؤن میں حاجی ابراہیم سیٹھ اپنے بردار یوسف سیٹھ نیشنل کو ساتھ لیکر شہر میں نکلتے اور عوام کی حفاظت کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈالکر ڈیوٹی دے رہے پولس جوانوں کو چائے، ناشتہ دیتے انکی حوصلہ افزائی کرتے اور رات میں شہر کی عوام کے گھروں تک ریلیف پہنچاتے.
ہم نے ہماری آنکھوں سے دیکھا ہیکہ جب کبھی بھی قوم وملت پر آنچ آئی اور آپ کو فون آیا چاہے وہ آدھی رات ہی کیوں نہ ہو آپ مدد کے لئے نکل پڑتے تھے مسائل ابراہیم سیٹھ نیشنل کی حیات ظاہرہ میں بھی تھے اور مسائل آج بھی ہے مگرآج عوام کوہرمکاتب فکر کے لوگوں کویہ احساس ہوتاہے۔کہ ابراہیم سیٹھ نیشنل ہوتے تو اچھا ہوتا۔
گھریلوپنچایت کے معاملات ہو۔یاآپسی لین دین یاکاروباری رنجشوں کے مسائل ہو۔کورٹ کچہری یا پولیس اسٹیشن یاپھردومکاتب فکرکے مابین مسلکی یاذاتی تکراری معاملات ہو۔ابراہیم سیٹھ نیشنل نے بڑی ہی خوش اسلوبی سے حل کئے۔ اب ابراہیم سیٹھ کے نہ ہونے پرلوگوں نے ہرموقع پرہی کہا۔کہ ایسے میں ابراہیم سیٹھ ہوتے توکیاہی اچھاہوتا۔ گویا کہ لوگوں کو ان معاملات میں بھی ابراہیم سیٹھ یادآئے۔
شہر کی عوام ،ہائی اسکولوں اورکالجوں کے اساتذہ، صنعت کاریہ کہنے پرمجبورہیں کہ ابراہیم سیٹھ نیشنل والے پولیس آفیسران اور سرکاری آفیسران کے سامنے حق بات کہنے اوربے باکی سے عوامی مسائل اورتکالیف کو بلا خوف وخطر اجاگرکرتے اور انہیں حل کرواتے ۔
گذرے سال میں عوام کوہرموقع پر،ہرمسئلے مسائل پرابراہیم سیٹھ نیشنل ہرپل۔ہرلمحہ یادآئے۔اور آگے بھی یادآتے رہینگے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہیکہ اللہ انکی مغفرت فرمائے سیات کوحسنات سے مبدل فرمائے، درجات کو بلند فرمائے اور شہر کو انکا نعم وال دل عطا فرمائے.
آمین یا رب العالمین......!!
دعاگو:-
اخلاق احمد بالے مقادم
حشمت اللہ للو سیٹھ
دوالفقاراحمد(ذولوسیٹھ)
عیدی آمین بھائی
صغیر بھائی ٹریکٹروالے
(معاون کارپوریٹر)
شاہد بھائی ریشم والے
(معاون کارپوریٹر )
بنکر بیداری کمیٹی
درے گاؤں پاورلوم فیڈریشن
سلطان گروپ
نیونیشنل گروپ
ادارہ ملنسار
یواسیواگروپ
ادارہ قصوی'
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق