دریگاوں پاور لوم شنگھرش سمیتی کی جانب سے لاک ڈاوٴن کے خلاف احتجاج کامیابی سے ہم کنار ۔
درے گاوٴں پاور لوم شنگھرش سمیتی کے ہم زمدار اور سیکرٹری انصاری عمیر سر کی نمائندے سے گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ پہلے لاک ڈاوٴن کے وقت بنکروں کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی وہ ساری لاک ڈاوٴن میں مزدوروں اور اقربا کو لیں دے کر ختم ہوگئی۔اور لاک ڈاوٴن کے بعد سے آج تک پاورلوم انڈسٹری مسلسل مندی کا شکار ہے۔اوپر پراویٹ بجلی کمپنی کے مظالم اپنے عروج پر ہیں۔یارن کی سٹہ بازاری روکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سورت پالی اور بالوترا کرونا کے نام پر بند ہیں۔یہ کہیں کر کپڑا بیوپاری کپڑے کا بھاو مسلسل توڑتا جارہا ہے۔اور ہمارے بنکر بھائی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے۔کسی بھی بھاو یارن خریدنے اور کپڑا بیچنے پر مجبور ہیں۔اور اگر اب ایسی صورت میں دوبارہ لاک ڈاوٴن ہوتا ہے تو بنکروں پر سونامی آنے جیسا ہوگا۔پاور لوم انڈسٹری پوری طرح سے تباہ و برباد ہوجائے گی۔اس لیے آج درے گاوٴں پاور لوم شنگھرش سمیتی کی جانب سے حکومت وقت کو ایک مکتوب بذریعہ میل راوانا کیا گیاہے۔ جس میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا گیا ہے کے پاور لوم انڈسٹری سے جوڑی ہر مِیل اور پروسیسنگ ہاوس کو جاری رکھا جائے ۔تاکہ لوگوں کا روزگار جاری رہے۔نہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کے لوگ کرونا سے بعد میں پہلے بھوک اور قرض کے بوجھ سے مر جائیں۔ اور اگر گورمینٹ کو لاک ڈاوٴن لگانا ہی ہے تو درےگاوں پاورلوم شنگھرش سمیتی کے صدر انصاری محمد سفیان نے مانگ کی ہے کے مزدوری کے اکاؤنٹ میں بیس ہزار روپے مہینہ اور بنکروں کو پندرہ ہزار روپیہ فی لوم دیا جائے۔اور راشن دوکان کے ذریعے مہینہ بھر کا راشن دیا جائے۔مولانا اعجاز رحمانی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ٹیکسائل انڈسٹری ہندوستان میں گیہتی کے بعد دوسرا سب سے بڑا روزگار کا ذریعہ جس عوام خود سمبھالتی ہے اسے گورمینٹ کی جانب سے کوئی اسکیم اور کسی بھی طرح کی مدد نہیں دی جاتی اس کے باوجود یہ صنعت ہندوستان میں اپنا ایک معیار رکھتی ہے اگر دوبارہ لاک ڈاوٴن لگایا گیا تو ہوسکتا ہے یہ صنعت ختم ہوجائے۔ اس موقعہ پر مولانا اعجاز رحمانی ۔عمیر سر۔سفیان انصاری ۔اسماعیل رحمانی ۔اعجاز مستری ۔ماجد وائر مین۔شفیق ملا۔جمیل بڑے۔ شاہ رخ آختر۔عمران اجو بھائی۔کامل بھائی۔ذیشان بھائی۔محمد سہیل۔اسدبھائی۔ اور محلے کے سرکردہ افراد موجود رہے
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق