جو بندوں کا شکرادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا

جو بندوں کا شکرادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا

*گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے صدر و اراکین ہر محاذ پر خدمت کا فرئیضہ انجام دینے والے احباب اور کرونا یودھا*
سال گذشتہ کرونا کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر موت کا تانڈو مچائے ہوئے تھی وہ حالات ایسے تھے کہ ہر کوئی نفسی نفساء کی کیفیت سے دوچار تھا 
ان ہی حالات سے  ہمارا شہر مالیگاوں بھی دوچارہوا، غریب پیسے پیسے کو ترس رہے تھے اور امیروں کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی بے بس نظر آرہے تھے
اس کسمپرسی کے حالات میں اگر سب سے زیادہ کسی کو تکلیف ہوئی تو وہ مریض تھے جن کے پاس اگر پیسوں کی کمی نہیں تو بہر حال دواؤں کی کمترائی ضرور ہوئی ایسے مریضوں کیلئے اس شہر کےمخیر حضرات نے دواوں کا انتظام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
ان ہی لوگوں میں  نمایاں نام شہر عزیز کی فعال ومتحرک شخصیت جن کو
 *ضیاء الرحمن مسکان*
*مومن عمران احمداسلامپورہ*
*سروش صمدحبیب کمپاؤنڈ*
*عزیزریاض گولڈن نگر*
*نویدانورنیااسلامپورہ*
*سفیان گولڈن باغ قاسم*
*شعیب پلمبرگولڈن نگر*
*ثاقب ایس ایس مدینہ آباد*
*فیاض افسر ملت کالونی*
*ضیاء وائرمین اسلام پورہ*
 کے نام سے جاناجاتاہے جنھوں نے لاک ڈاؤن کے انتہائی نا مصائب  حالات میں دھولیہ اورنگ آباد اور دیگر شہروں سے دواوں کا انتظام کرکے مریضوں تک دوائیں پہنچانے کا فریضہ انجام دیا
کرونا کی زد میں آکر زندگی سے دستبردار ہونے والوں کی لاشوں کو جب کوئی ہاتھ لگانے والا نہیں تھا اس وقت اپنے آپ کو مسیحاء اور قوم وملت کا خادم کہنے والے چپی سادھ کر بیٹھے تھے تو یہی وہ نوجوان 
*ضیاء الرحمن مسکان* اور *عزیز ریاض*  *سروش صمد حبیب کمپاؤنڈ*  تھے جنھوں نے ایک دن میں کئی کئی لاشوں کو اٹھاکر ایمبولینس میں ڈال کر ان کے اقرباء تک پہنچانے میں بھرپور مددکی اتنا ہی نہیں *ضیاء الرحمن مسکان*  نے سیکڑوں لاشیں پیک کرنے کے علاوہ غیر مسلم لاشوں کو بھی پیک کرکے شمشان گھاٹ تک پہنچا کر شہر عزیز مالیگاؤں کا نام روشن کیا 
ان کا دوسرا کارنامہ 
*گمشدہ بچوں کو ان کے والدین تک پہنچانا*
آپ یقین جانئے!!!! 
جن کے بچے گم ہوتے ہیں ان کی حالت زار بے پانی کی مچھلی جیسی ہوجاتی ہے ایک انجانا خوف اور وسوسے ان کو اپنی گرفت میں لے کر ان والدین کو زندگی اور موت کے منجدھار میں لاکر چھوڑ دیتے ہیں 
ایسے وقت میں بناء کسی لالچ اور بناء کسی عوض کے ان گمشدہ بچوں کو ان کے والدین تک پہنچانےاور ان والدین کو ان کی سب سے قیمتی چیز(اولاد) واپس دینے کا کام انجام دیتے ہیں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے صدر واراکین

ان ہی صدر اراکین کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے عضباء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی رونق آبادکے ذمہ داران نے ایک استقبالیہ پروگرام مرتب کیا اور گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب منعقد کرتے ہوئے سپاس نامہ بھی عنایت فرمایا


یہ صرف ایک سپاس نامہ ہی نہیں بلکہ گمشدہ بچوں کے گروپ کیلئے ایک  بیش بہاء اور قیمتی انعام ہے

 گمشدہ بچوں کے گروپ کے صدر و اراکین خصوصاً *ضیاء الرحمن مسکان*  عضباء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے ذمہ داران کے انتہائی ممنون ومشکور ہیں کہ انھوں نے ان ناچیز لوگوں کو اپنے ادارے کی رونق بنایااور ہماری حوصلہ افزائی فرماکر مزید لگن سے کام کرنے کا حوصلہ دیا ہے


اخیر میں ایک بار پھر ہم لوگ 
عضباء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر واراکین کے شکرگزار ہیں اس امید پر کہ ہم جب کبھی ان احباب کو آواز دیں تو یہ ہمارے قدم سے قدم ملاکر ہمارے ساتھ تعاون کریں گے

نیک خواہشات اور شکر گزار
*عضباء ایجوکیشنل سوشل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی رونق آباد مالیگاؤں*
*ادارہ ستارہ ہند گولڈن نگر مالیگاوں*
*نوجوانان رونق آباد مالیگاؤں*

ليست هناك تعليقات: