جینرک میڈیسن کے بارے میں حقیقت

سوال : جینرک میڈیسن کے بارے میں حقیقت بیان کریں ۔ نوازش ہوگی۔
جواب : جینرک دوا کا معنی ہے جس دوا کی patent (جملہ حقوق) کی مدت ختم ہوچکی ہے اور اسے دنیا کی کوئی بھی دوا ساز کمپنیاں بنا سکتی ہیں.

پوری دنیا میں صرف دو قسم کی دوائیں بنائی جاتی ہیں.
ایک پیٹنٹ
دوسری جینرک
ہندوستان میں تقریباً 95 فی صد دوائیں غیر پیٹنٹ ہیں.
آپ ہم روزانہ جو بھی دوائیں استعمال کرتے ہیں وہ سو فیصد جینرک ہی ہوتی ہیں چاہے جس کمپنی کی ہو، شاذ و نادر، معدودے چند دواؤں کہ جس کا فیصد مشکل سے 0.1 فی صد ہوگا جوکہ پیٹنٹ ہوتی ہیں.
دوسری بات ہندوستان میں جتنی بھی دوائیں استعمال ہوتی ہیں انہیں جتنی بھی کمپنیاں بناتی ہیں سب کا بنانے کا طریقہ ایک جیسا ہی ہے، Raw material نوے فیصد چین سے امپورٹ کیا جاتا ہے.
سرکار نے سبھی کے لئے ایک جیسا بنانے کا قاعدہ رکھا ہے جسے  WHO, GMO, ISO معیار کہتے ہیں، صرف انہی پلانٹس میں بنانے کی اجازت ہوتی ہے.

پہلے گیلیکسو، رین بکسی، وغیرہ کی دوائیں کافی مہنگی ہوتی تھیں تو ان کا عذر ہائی کوالٹی کا ہوتا تھا اب جبکہ حکومت ہند نے DPCO, یعنی ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر کے ذریعے تمام دواؤں کو عوام کی خاطر ایک مخصوص قیمت فروخت MRP میں لایا تو ان مہنگی دواؤں کو مذکورہ بالا کمپنیوں کو سستا کرنا پڑا تو اب سوال یہ ہے کہ کوالٹی کہاں گئی ؟؟

جہاں تک جن اوشدھی کی بات ہے یہ بالراست عوام کے ہاتھوں آتی ہے اسی لئے اس کے مارکیٹنگ اخراجات بہ نسبت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بہت کم ہیں اور  سرکار اس میں سبسڈی دیکر اسے اور سستا کردیتی ہے، کوالٹی تقریباً تمام کمپنیوں کی ایک جیسی ہے، جہاں تک بات ایمانداری کی ہے تو پچھلے کچھ سالوں میں بڑی بڑی فارما کمپنیاں بھی سب اسٹینڈرڈ طریقے سے دوا بناتے پکڑی گئی ہیں اور ان پر ہزاروں کروڑ روپے فائن بھی لگا ہے جس میں سے رین بکسی کی ایک مثال ہے جو دیوالیہ ہوگئ تھی جسے دلیپ سنگھوی (سن فارما) نے بعد میں خریدا..

(نصر فاؤنڈیشن کے ذریعے مفاد عامہ میں جاری ایک علمی تحریر جسے بلا ترمیم تمام گروپوں میں ارسال کرنے کی درخواست )

ليست هناك تعليقات: