سنیچر کی رات مشترکہ صنعتی تنظیموں کی پر فکر میٹنگ کا احوال
اعلان کے مطابق آل مالیگاؤں پاورلوم تنظیموں اور رضاکاران و ہمدردان پاور لوم صنعت کی پرہجوم میٹنگ سنیچر کی رات دس بجے حسین سیٹھ کمپاؤنڈ آگرہ روڈ پر منعقد ہوئی
جس میں مقررین نے کھل کر کہا کہ بند کا اعلان کرنے کے بعد کپڑے میں سرخی آ گئی اس کے بعد بھی کپڑے لاگت سے نیچے ہی ہے کیونکہ کپڑے کے ساتھ یارن بھی پلس ہو رہا ہے بند کا اعلان ہوتے ہی کپڑے اور یارن میں سٹہ بازاری ہونا شروع ہو گئی مطلب کپڑا بیوپاری اور یارن مل والے نے صاف مطلب نکال لیا ہیکہ اگر پاور لوم بند ہوتا ہے تو کپڑا بیوپاری کو آنے والے دنوں میں بنکروں سے سستا اور غرض والا کپڑا ملنا بند ہو جائے گا اور یارن مل والوں نے محسوس کر لیا کہ اگر بند کامیاب ہو گیا تو وویور کے مانگے ہوئے ریٹ پر یارن دینا ہو گا اور before RTGS بیتے دنوں کی بات ہو جائے گی اسی لئے وقتی طور پر کپڑا بڑھا کر مانگا جا رہا ہے
بند کامیاب ہونے کی صورت کپڑا انڈر کاسٹ سے نکل جائے گا اور آنے والے مہینوں کا کپڑا اچھے دام میں بک ہو جائے گا اور مناسب قمیت میں مل والوں یارن بکنگ دینا ہو گا کیونکہ ان کا پروڈکشن بند نہیں ہونے والا ساؤتھ کا تہوار پونگل بھی اب ختم ہو چکا ہے اور دیوالی کا تہوار بھی ہو چکا ہے
خدانخواستہ خدانخواستہ بند فیل ہونے کی صورت میں یہی صورت حال مکمل طور پر الٹ رہیگی یعنی کپڑے کو کوئی لکڑی سے نہیں چھوئے گا اور یارن RTGS کرنے کے بعد ملیگا
کچھ لوگوں کا ایسا کہنا ہے کہ صبح شام کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ ہم کپڑا نہیں بنا رہے بلکہ شئیر مارکیٹ کا بزنس کر رہے ہیں
ان تمام باتوں پر غور و خوض کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ جمعرات کی میٹنگ میں عوامی رائے سے جو فیصلہ ہوا ہے اس پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کیا جائے گا
وارڈ وائز ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے رضاکاران کے موبائل نمبر جمع کئے گئے
اور پورے مالیگاؤں کے وہ محلے جہاں جہاں پاور لوم چھوٹی بڑی تعداد میں ہیں وہاں اس حساب سے رضاکاران کو ذمہ داریاں تقسیم کی گئی
اور دوبارہ کل بروز اتوار دوپہر تین / بجے حسین جوان کمپاؤنڈ آگرہ روڈ پر تنظیموں کے ذمہ داران اور رضاکاران و ہمدردان پاور لوم صنعت کو یکجا کرنے کے اعلان پر آج کی میٹنگ کا اختتام ہوا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں