زمانہ ڈھونڈنے نکلے گا روشنی لیکرنڈر و بیباک رہنما ساتھی نہال احمد مولوی محمد عثمان صاحب

زمانہ ڈھونڈنے نکلے گا روشنی لیکر
نڈر و بیباک رہنما
     ساتھی نہال احمد مولوی محمد عثمان صاحب

 اقبال احمد انصاری قلعہ ٧٦٦٦٥٣٦٧٦١*
قسط نمبر٣

*؁١٩٧٨ میں ایک فیصدکوٹہ خواتین کےلئےمختص کیاگیاتوصاَحب چاہتے تھے ایک ایسی خاتون رہنا چاہیے  جو خواتین کےمسائل کوباآسانی سے حل کر سکے اسلئے 13جون1978 کو نہال احمدصاحب نے ، ساجدہ  واحدی ، نامی خاتون سے دوسری شادی کرلی جو نیک سیرت ،گھریلو ، صبر ، اور شکر والی خاتون تھی محترمہ اَملنیر سے تعلق رکھتی تھی اور اس وقت اَملنیر جنتاَ پارِٹی کی صدر اور ایک  بہترین شاعرہ بھی تھی شادی کے بعد ساجدہ  واحدی صاحبہ نے  ہزار کھولی علاقے میں  سکُونت اَختیار کرلی ۔*

 *ساتھی نہال احمدصاحب  ؁١٩٨٠ ؁١٩٨٥ اور ؁١٩٩٠؁ کے اَسمبلی اِنتخابات میں  جیت حاصل  کرکے مہاراشٹر ایوان اسمبلی میں  مظلُوم اَقلیتوں کی بھرپور  نمائندگی کرتے رہے ریاست مہاراشٹرکی عوام  انہیں  اقلیتوں کا  مسیحا  اورشیر مہاراشٹر کہنے لگی یہ ان کی نڈر و بیباکی کی واضح مثال ہے*
*١٩٨٧ ؁ میں مہاراشٹر اَیوان اَسمبلی میں ساتھی نہال احمد صاحب  اَپوزِیشن لیڈر بنائے گئے۔*
*مہاراشٹر کے ایوان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی معراج تک پہنچنے گئے لیکن ان کے اندر گھمنڈ  تکبر انتقام  اور منفی سیاست کا جذبہ کسی نے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔*

*جارج واشنگٹن نے تقریباً ٢٠٠ سال پہلے کہا تھا کہ سیاستداں وہ ہے جو سال بھر بعد ہونے والی بات کو آج ہی بتا دے اور اگر وہ واقعہ وقوع پذیر نا ہو تو دلیل سے  ثابت کرے کہ کیوں نہیں ہوا ساتھی نہال احمد صاحب نے   ١٩جولائی ؁١٩٩٢ کو مالیگاؤں شہر میں  بابری مسجد بچاؤ کمیٹی بناکر مالیگاؤں شہر کی عوام کو اکھٹا کرکے احتجاجی  جلوس نکالا اور اس وقت کی کانگریسی حکومت کو اس بات سے باخبرکیا تھا کہ  فرقہ پرستوں کی جانب سے بابری مسجد کو خطرہ ہے  مرکزی حکومت بابری مسجد کو اپنے تابع میں لے کر اس کی حفاظت کرے مگراُس وقت کے انتہائی شاطر کانگریسی وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ نے ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ایسا لگتا تھا جیسے فرقہ پرستوں کو نرسمہاراؤ کی خاموش تائید ہو …*
*٦دسمبر ؁١٩٩٢ کو بابری مسجد شہیدکردی گئی دنیا نے دیکھا کہ ایک دور اندیش سیاست داں کا خدشہ کیسے حقیقت میں بدلا ۔*  
*وقت کا مورخ تاریخ میں یہ بات ضرور لکھے گا کہ اکثریت کی خوشنودی کے لئے اقلیت کی عبادت گاہ کو چھین کر اکثریت کے حوالے کر دی گئی وہ عہد تھا پنڈت جواہر لال نہرو کے نواسے اندرا گاندھی کے صاحبزادے راجیو گاندھی کا اس کے بعد ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اکثریت کو خوش کرنے کیلئے شہادت مکمل ہونے تک کچھ نہیں کیا گیا  جبکہ ساتھی نہال احمد صاحب نے  حکومت وقت کے سامنے خدشہ پیش کر کے اس بات کو ثابت کر دیا تھا کہ وہ ایک مدبر سیاست دان ہیں ۔*

*؁١٩٩٥ میں ہوئے مہاراشٹر  اسمبلی انتخابات ساتھی نہال احمد صاحب ایم ایل اے منتخب ہوئے تو ریاست مہاراشٹر میں شیوسینا  اور بھارتی جنتا پارٹی( بی جے پی )نے مل کر سرکار قائم  کی ساتھی نہال احمد جیسا نڈر وبیباک رہنما  ایوان اسمبلی میں " گؤونش  " پر پابندی کے موضوع پر بحث کو نصف رات تک چلایا  یہ ان کی سیاسی بصیرت کی واضح مثال ہے کہ انہوں نے اس مسلئےکو مسلمانوں کا مسلۂ نہیں بننے دیا بلکہ کمال ہوشیاری سے اسے معیشت  کا مسلۂ بنادیا اور ایوان اسمبلی  میں مدلل انداز میں پیش کیا اور کہا  کہ اس تجارت سے کتنے لوگ جڑے ہیں اور کون کون ہیں ؟*

*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری*

ليست هناك تعليقات: