جب قوم کی دولت مشاعروں،آرکیسٹرا اور غیر شرعی محافل پر خرچ ہونے لگے تو معاشی زوال یقینی ہے



جب قوم کی دولت مشاعروں،آرکیسٹرا اور غیر شرعی محافل پر خرچ ہونے لگے تو معاشی زوال یقینی ہے

✍🏻 حافظ محمد غفــــــران اشرفی

تاریخ اِس بات پر شاہد ہے کہ کسی قوم کے لوگ جب عیش پرست ہوگئے تو پھر ذلّت اور رسوائی اُن کا مقدر بن گئی۔اگرچہ وہ قوم اپنے وقت کی حاکم ہی کیوں نا ہو۔ایسی بے راہ روی کی شکار قوم سے گناہوں کی نحوست کے سبب حکومت بھی ہاتھ سے چلی گئی۔یہی حال ہمارے شہر کے کچھ رنگیلے مزاج لوگوں کا ہے۔روپیوں کی کثرت اور نفس پرستی نے انجام سے بھی بے خبر کردیا ہے۔لوگ دولت آنے کے بعد گناہوں کے دہلیز آباد کررہے ہیں۔اگر دولت ہمارے رنگیلے مزاج نفس پرست لوگوں کو مُجرا اور عیّاشی کی طرف مائل کرتی ہے تو اُنہیں گزشتہ بڑے بڑے بادشاہوں،وزیروں،دولت مندوں اور تاجروں کا عبرت ناک انجام کتبِ تواریخ میں پڑھ لینا چاہئے۔کیوں کہ قدرت نے اُنہیں بھی اپنے خزانہِ جود سے دولت عطا کی تھی۔مگر اُس دولت سے قوم کی خدمت کرنے کی بجاے اُن عقل سے پیدل لوگوں نے عیّاشیاں کرنا شروع کردیں۔جب خوفِ خدا اُن کے دلوں سے نکل گیا اور وہ گناہوں پر جٙری ہوگئے تو قدرت نے اُن پر مفلسی مسلّط فرمادی نیز اُن کے کاروبار میں مٙندی کی نحوست ڈال دی اور اُن کی دولت کا سارا غرور خاک میں ملاکر رہتی دنیا تک گناہ کرنے والے رنگیلے مزاج نام کے مسلمانوں کو درسِ عبرت بنادیا۔شہر میں بے شمار غریب عورتیں،بے سہارا بچّیاں،تعلیم سے عاری یتیم وغریب بچّے اور در بدر پھرتے ہوے بوڑھے جو نانِ شبینہ کے محتاج ہیں۔اُن کی مزاج پُرسی اور کفالت کی پرواہ کیے بغیر دولت کے نشے میں چُور ہوکر کہیں آرکیسٹرا ہورہا ہے تو کہیں شاعر و شاعرات کے اختلاط کے ساتھ بے ہودہ طرز کے مشاعرے و غیر شرعی محافل کا انعقاد!!!جن میں شاعرات و فنکار پر چند گھنٹے میں ہزاروں روپئے یوں ہی برباد کیے جارہے ہیں۔جس قوم میں لوگ دانے کو محتاج ہوں اُس قوم کے لوگ اگر اپنی دولت میں یوں آگ لگائیں تو پھر اُس قوم کا معاشی زوال یقینی ہی ہوتا ہے۔اور یہ بات صرف بعض مالداروں کی ہی نہیں بلکہ اِس قوم کا مزدور بھی عیّاشی میں کچھ کم نہیں،فلم بینی،شراب نوشی،جُوا،نشہ،گالی،فحش کلامی اور بالخصوص خاص مواقع پر نوجوان لڑکیوں کے جسموں سے کھیلنا اب اِن کی عادت بن چکا ہے۔اگر ہمارے یہی معمولات رہے تو پھر کاروباری پسماندگی کے ایسے ناگفتہ بہ حالات ایک بار نہیں روز روز پیدا ہوتے رہیں گے۔ہماری قوم کے لوگ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے تو ہزار بار سوچتے ہیں۔سوچنے کے بعد مدد کرنے کے لیے اپنی جیب سے سکّہ وہ نکالتے ہیں جس سے اُس ضرورت مند کے ایک وقت کا کھانا بھی نا آسکے۔اور جب بات عیّاشی کی آجاے تو پھر بغیر کسی تردّد کے کئی کئی سو روپئے جیب سے فورا نکل جاتے ہیں۔شہر کی معاشی حالت اگر بحال کرنا ہے تو مالداروں اور صاحب استطاعت مزدوروں کو چاہئے کہ وہ ضرورت مندوں کی کفالت کرنا شروع کردیں۔کاش!ہمارا روپیہ قوم کے بچّوں کی تعلیم و تربیت کے لیے خرچ ہوتا تو اللہ پاک راضی ہوتا اور قوم کا مستقبل تابناک و روشن ہوتا۔

ليست هناك تعليقات: