کیا مالیگاؤں کی ترقی۔اور مودی جی 15 لاکھ وعدے یکساں نہیں ھیں عبدالخالق صدیقی
کیا مالیگاؤں کی ترقی۔اور مودی جی 15 لاکھ وعدے یکساں نہیں ھیں( پریس نوٹ ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے وجود کے دنوں سے مقامی کانگریسی ۔ترقی۔ترقی کا راگ الاپتے آئے ھئیں مگر کوئی بتلائے کہ مودی جی کے 15/15 لاکھ کے وعدے اور مقامی کانگریسیوں کی ترقی کے دعوے میں کوئی فرق ھئے آج پھر شہر کی ترقی کے نام سے نہ صرف گہر پٹی بڑھانے کی باتیں کی جارھی ھئیں بلکہ گھروں مکانوں کی موج ماپ( ریویثرن) کے واسطے بھی عوام کو اپنی جیب ھلکی کرنا پڑیگی۔2001 کارپوریشن کی بنیاد سے ابھی تک پانی پٹی گھر پٹی کرایہ بازار فیس اور کارپوریشن کے ہر طرح کے ٹیکس بہت بہت زیادہ بڑھ چکے ہئیں مگر شہر کی حالت اور خراب ہوگئی ہئے کارپوریشن کی آمدنی بڑھاتے بڑھاتے عوام کا کچومر نکل گیا ہئے اور ترقی ہئے کہ مودی جی کے وکاس کیطرح پیدا ہی نہیں ھورہی ہئے کارپوریشن کا بجٹ80 کروڑ سے 480 کروڑ کا ہوگیا مگر شہر کی حالت پہلے سے خستہ ہوگئی ہئے آس لیئے مالیگاؤں کی عوام کو کانگریس ۔اور دیگر تمام پارٹیوں کی ترقی نہیں نہیں نہیں چاھیئے جو لوگ سرکاری فنڈ اور کارپوریشن کے خرچ سے آگرہ روڈ نہیں سدھار سکے انکے منہ سے ترقی کے الفاظ اچھے نہیں لگتے شہر کی عوام نے 19 برسوں کی ترقی خوب دیکھی ہئے اب بس کرو۔۔نہ گھر پٹی بڑھاؤ نہ پانی پٹی اور دیگر ٹیکس بڑھاؤ عوام زیادہ سے زیادہ ٹیکس دیکر پریشان رہ کر دیکھ چکی ھئے اب مزید نئے اور زیادہ ٹیکس ادا کرنے لائق نہیں رہ گئی اس لیئے نیا ریویثر ن کارپوریشن کرمچاریوں سے ہی کرواؤ۔۔۔۔۔عبدالخالق صدیقی ۔۔۔۔7066180898
الاشتراك في:
تعليقات الرسالة (Atom)
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق