کچھ ‏غیر مستحق عورتیں نقاب ‏لگا ‏بھیک ‏مانگتی ‏ہیں



بغیر کسی تحقیق کے مانگنے والی فراڈی عورتوں کو ایک روپیہ بھی نادیں
✍🏻 حافظ محمد غفــــــران اشرفی
(جنرل سکریٹری سنّی جمعیة العوام)

بھیک مانگنے والے پیشے کو فروغ ملنے میں اہلِ ثروت حضرات کی حاجت برآری کے طریقہ کا بہت بڑا دخل ہے۔ضرورت مند ہر دور میں رہے ہیں لیکن اُن ادوار میں اور ہمارے دور کے ضرورت مندوں کی حاجت برآری کے طریقہ میں بُعدالمشرقین ہے۔ہمارا معاش سے جڑا ہوا طبقہ تن آسان ہوگیا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ مانگنے والا ہمارے دروازے تک خود چل کر آے۔اور پھر تجزیہ یہی ہے کہ دروازے پر آکر ہر صدا لگانے والے کو مالدار حضرات کچھ نا کچھ دے ہی دیتے ہیں۔بلکہ مانگنے والے اکثر دکان اور ہوٹلوں پر چکّر کاٹتے ہیں اور ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مانگتے ہیں۔ہم بھی اپنے معمول کے مطابق کم از کم دو روپئے کے سکّے دے کر اپنا دامن جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم نے اُن بے غیرت پیشہ ور مانگنے والوں کو بھیک دیتے ہوے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اگر ہم اِنہیں بھیک دے دیں گے تو اِس سے اُن کے حوصلے مزید بلند ہوجائیں گے۔حالانکہ ہمیں اُن کی حوصلہ شکنی کے لیے خالی ہاتھ لوٹا کر گھر بھیجنا چاہئے اگر ہم نے پیشہ وارانہ طور پر مانگنے والوں کو خالی ہاتھ لوٹا دیا تو ہمیں گناہ نہیں ملے گا۔بلکہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگنے والوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔
حاجت مندوں کی مدد کرنے سے متعلق ہمارے بزرگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہر ضرورت مند کی خبر گیری کرتے اور کسی کو اطلاع کیے بغیر اُس ضرورت مند کو اُس کی حاجت کے مطابق اشیا اُس کے گھر تک پہنچا دیتے۔موجودہ دور میں بھیک مانگنے والوں کی کثرت کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ وہ بے خوف ہیں کہ اُن کے حالات سے متعلق کوئی باز پُرس نہیں ہوگی۔اِسی لیے جس کو دیکھو وہ بہانے تراشتا ہوا ڈرامائی انداز میں مگرمچھ کے آنسو بہاتا ہوا آتا ہے اور ہم سے روپیے اینٹھ کر چلتا بن جاتا ہے۔خصوصا فراڈی عورتیں وہی روپئے ہم سے اینٹھ کر اپنے گھر کے بے کار مردوں کو دیتی ہیں جس سے وہ بے غیرت مرد گناہ کے کام کرتے ہیں۔اگر ہم نے شہر میں بھیک مانگنے والی عورتوں سے تفتیش کرنا شروع کردیا تو آپ خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر بھی دیکھیں گے کہ بھیک مانگنے والی وہ عورتیں جنہوں نے بھیک مانگنا پیشہ بنارکھا ہے اُن کی کمر ٹوٹ جاے گی۔اور وہ بھیک مانگنے والی برقعہ پوش خواتین جو گلیوں اور سڑکوں پر پیسوں کی پُجارٙن بن کر پِھرتی ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں برائیاں جنم لے رہی ہیں اُن کے گھر بیٹھنے سے یہ لعنت بند ہوجاے گی۔اگر آپ کو اِس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ آخر میں کس برائی کی بات کررہا ہوں اور وہ برائی کیا ہے تو شہر کی بڑی ہوٹلوں پر بیٹھ کر چاے کی چُسکیاں لیتے ہوے سنجیدگی کے ساتھ اُن برقعہ پوش مانگنے والی عورتوں کا ڈرامہ دیکھئے آپ کو خود سمجھ میں آجاے گا۔اِس لیے مانگنے والی فراڈی عورتوں کو بغیر کسی تفتیش کے ایک روپیہ بھی نادیں۔

کوئی تبصرے نہیں: